مارک فائفر
2007 سے 2009 کے دوران وائٹ ہاؤس میں نائب صدر کے معاون اور قومی سلامتی کے نائب مشیر برائے اسٹریٹجک کے عہدے پر خدمات انجام دیں۔
21 گھنٹوں تک امریکی اور ایرانی نمائندے اسلام آباد میں آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرتے رہے۔
یہ ایک کھلا اور صاف گو مکالمہ تھا—نہ سوشل میڈیا کی پوسٹس تھیں اور نہ ہی ’ٹوماہاک‘ میزائل، بلکہ ایک انسان دوسرے انسان سے بات کر رہا تھا۔
آگے بڑھنے کا ایک راستہ موجود تھا مگر وہ بند ہو گیا اور اب بحری محاصرے کی مہم جاری ہے۔
یہ تبدیلی بہت تیزی سے آئی اور ایک بار رونما ہونے کے بعد اسے واپس موڑنا نہایت مشکل ہو گیا۔
مزید پڑھیں
میں نے یہ سب قریب سے دیکھا ہے۔
تنازع کے ابتدائی ہفتوں میں میں نے ایک ماہ دوحہ میں گزارا، جہاں میں آسمان میں آتے میزائل اور انہیں روکنے کے لیے داغے جانے والے دفاعی میزائل دیکھتا رہا۔
جب مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو یہی چیز سفارت کاری کی جگہ لے لیتی ہے۔
یہاں سے معاملہ برداشت کے امتحان میں بدل جاتا ہے، جہاں ہر فریق دوسرے سے زیادہ دیر تک ڈٹے رہنے کی کوشش کرتا ہے اس کی کمزوریوں پر دباؤ بڑھاتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ کون پہلے جھکے گا۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس نوعیت کا دباؤ محدود نہیں رہتا بلکہ تیزی سے عالمی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں تک پھیل جاتا ہے اور پورے خطے کے استحکام کو متاثر کرتا ہے۔
اب آبنائے ہرمز محض ایک بحری راستہ نہیں رہا بلکہ دباؤ کا مرکز بن چکا ہے۔
عالمی معیشت کو متاثر کرنے کے لیے مکمل ناکہ بندی ضروری نہیں ہوتی۔
صرف دھمکی ہی کافی ہوتی ہے کہ منڈیاں متاثر ہوں، تیل کی قیمتیں بڑھیں اور شپنگ کی رفتار سست پڑ جائے۔
اس کے اثرات خلیج سے آگے بڑھ کر دنیا بھر میں محسوس کیے جاتے ہیں اور عوام اپنے ممالک میں اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔
اب تک ٹرمپ نے اتحاد سازی کے بجائے رفتار کو ترجیح دی ہے۔
امریکہ نے بڑی حد تک اکیلے اقدام کیا اور براہِ راست دباؤ ڈالا۔
اگرچہ اس سے وقتی رفتار پیدا ہوتی ہے مگر خطرات بھی مرکوز ہو جاتے ہیں۔
جب معاملات منصوبے کے مطابق نہ چلیں تو بوجھ بانٹنے کے لیے شراکت دار کم رہ جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یورپ میں اتحادی جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ان کے وسائل محدود اور رفتار سست ہے۔
امریکہ سمندر میں متحرک ہے جبکہ یورپ ابھی بیانات جاری کر رہا ہے اور اجلاس منعقد کر رہا ہے۔
بحری افواج کی تعیناتی میں وقت لگتا ہے اور سفارت کاری نیت ظاہر کرتی ہے مگر خلیج میں فوری طور پر حالات نہیں بدلتے۔
دوسری جانب ایران حقیقی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
اس کی معیشت کا بڑا حصہ تیل اور گیس پر منحصر ہے اور بے چینی کا اثر فوری طور پر مالیات سے لے کر سیکیورٹی اداروں تک پہنچتا ہے۔
مگر دباؤ کے دو رخ ہوتے ہیں۔
اگر تہران کو یہ محسوس ہو کہ کوئی معاہدہ نظام کے وجود کے لیے خطرہ ہے، تو وہ معاشی دباؤ کے باوجود زیادہ دیر تک مزاحمت کر سکتا ہے۔
ایران کے لیے یہ محض مذاکرات نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ ہے۔
یہ صورتحال ایک خطرناک توازن پیدا کرتی ہے:
امریکہ باہر سے دباؤ ڈال رہا ہے، ایران اندر سے اسے جذب کر رہا ہے اور عالمی معیشت ان دونوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب دھمکیوں پر عمل درآمد ہی حکمت عملی بن جائے، ناکہ بندی علامتی نہیں بلکہ حقیقی ہوتی ہے۔
اگر آپ اعلان کرتے ہیں کہ کوئی جہاز نہیں گزرے گا، تو ہر گزرنے والا جہاز آپ کی پوزیشن کو کمزور کرتا ہے۔
ایک بھی جہاز نکل گیا تو ناکہ بندی میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں غلط اندازوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اب ٹرمپ کے سامنے واضح انتخاب ہے:
یا تو دباؤ کو مزید بڑھائیں اور کنٹرول کھونے کا خطرہ مول لیں یا اسے دوبارہ مذاکرات کی راہ میں تبدیل کریں۔
اول، صرف دباؤ سے معاہدہ نہیں ہوتا۔
یہ اثر و رسوخ تو پیدا کر سکتا ہے مگر مسئلہ حل نہیں کرتا۔
دوم، مذاکرات کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا۔
اب یہ صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں رہا۔
چین توانائی درآمد پر انحصار کرتا ہے، روس قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر ایران میں اس کے طویل المدتی مفادات ہیں جبکہ یورپ اور ایشیا میں امریکی اتحادی بھی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔
یہ سب محض تماشائی نہیں بلکہ اہم فریق ہیں۔
سوم، سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا، جو مہینوں پہلے شروع ہونی چاہئیں تھیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو اور اعلیٰ فوجی قیادت کو نیٹو اور ایشیائی ممالک—بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا—کے دورے پر بھیج کر اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جائے اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے طویل المدتی منصوبہ بنایا جائے۔
چہارم، ایک واضح راستہ متعین کرنا ضروری ہے۔ اس وقت پیغام صرف دباؤ کا ہے، جبکہ آگے بڑھنے کا واضح لائحہ عمل موجود نہیں۔
اس کے بغیر ایران کے پاس اپنا مؤقف بدلنے کی کوئی ترغیب نہیں ہوگی، خاص طور پر اگر خطرہ نظام کے انہدام کا ہو۔
مزید پڑھیں
مذاکرات اسی وقت بحال ہوتے ہیں جب ہر فریق کو اپنی بقا کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ نظر آئے۔
آخر میں، عالمی اثرات کا انتظام بھی ضروری ہے۔
توانائی کی منڈیاں سفارت کاری سے زیادہ تیزی سے ردعمل دیتی ہیں، اور قیمتیں معاہدوں سے پہلے ہی بدل جاتی ہیں۔ یہ دباؤ صرف بیرونِ ملک نہیں بلکہ اندرونِ ملک بھی پیدا کرتا ہے۔
گفتگو کا لہجہ بھی اہم ہے۔
بروکلین میں اپارٹمنٹ یا نیو جرسی میں کیسینو کی خریداری کی زبان مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی مذاکرات میں موزوں نہیں۔
درستگی اہم ہے، کیونکہ اعتماد ہی سفارت کاری کو زندہ رکھتا ہے۔
یہ تنازع اب علاقائی نہیں رہا بلکہ ایک عالمی معاشی بحران بن چکا ہے۔
ٹرمپ کے لیے اصل چیلنج صرف دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنا ہے—کشیدگی کو کنٹرول کرنا، منڈیوں کو سنبھالنا اور آئندہ کے نتائج کو محدود رکھنا۔
کیونکہ جب دباؤ مکمل طور پر غالب آجاتا ہے تو مذاکرات رک جاتے ہیں اور ردعمل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے—اور پھر ممکن ہے کہ بہت دیر ہو چکی ہو۔
بشکریہ: الجزیرہ