امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جدید توانائی پر مبنی ہتھیاروں کے استعمال کا اعلان کیا ہے، جسے مبصرین نے اُن محققین کے خدشات کی تصدیق قرار دیا ہے جو برسوں سے اس قسم کی جدید فوجی ٹیکنالوجی کی تیاری کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں۔
امریکی وزارتِ جنگ کے چیف ٹیکنالوجی افسر ایمل مائیکل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر 4 مئی کو جسے دنیا بھر میں ’اسٹار وارز ڈے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک پوسٹ میں کہا کہ توانائی پر مبنی ہتھیار ’Directed Energy Weapons‘ اب امریکا کے دفاعی ہتھیاروں کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ایک ایسی تصویر بھی شیئر کی جس میں ایک ہتھیار لیزر شعاع خارج کرتا دکھائی دے رہا تھا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ان ہتھیاروں کو Directed Energy Weapons کہا جاتا ہے، جو برقی مقناطیسی توانائی یا ایٹمی و ذیلی ایٹمی ذرات کی مرتکز شعاعوں کے ذریعے دشمن کے الیکٹرانک نظام، جیسے ڈرونز، کو ناکارہ بنانے یا فوجیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ ہتھیار براہِ راست ہلاکت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
اس سرکاری اعلان کو امریکا کی جانب سے اُن برسوں پر محیط قیاس آرائیوں کا بالواسطہ اعتراف سمجھا جا رہا ہے جن میں کہا جاتا تھا کہ واشنگٹن ایسی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا ہے جو پہلے سائنس فکشن کا حصہ تصور کی جاتی تھیں۔
ان ہتھیاروں سے متعلق تنازع میں نمایاں نام امریکی محققہ ایمی ایسکرج کا بھی ہے، جو اینٹی گریویٹی ٹیکنالوجی، نامعلوم فضائی اجسام اور خلائی حیات سے متعلق تحقیق میں شریک رہی تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسکریج 2022 میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ انہوں نے خودکشی کی تاہم اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے گھر میں Directed Energy Weapon کے ذریعے ان پر حملہ کیا گیا۔
برطانوی انٹیلیجنس کے سابق افسر فرانس ملبرن نے بھی ان کے دعوؤں کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اُن تحقیقات کا حصہ رہے جن میں اسکریج کو حساس معلومات افشا کرنے کی دھمکیوں کے بعد ہراساں کئے جانے کا معاملہ شامل تھا۔
میلبرن نے دعویٰ کیا کہ محققہ کے جسم پر مائیکروویو شعاعوں سے جلنے کے آثار تھے، جو ’کے-بینڈ‘ ریڈیو ویوز کے ذریعے پیدا کی گئی تھیں۔
ان شعاعوں کو مرتکز کر کے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
2023 میں امریکی کانگریس میں دی گئی گواہی میں میلبرن نے کہا تھا کہ اسکریج کی موت ممکنہ طور پر خودکشی نہیں بلکہ قتل تھی، جسے ایک نجی خلائی کمپنی نے حساس سکیورٹی فائلوں کی تحقیقات روکنے کیلئے انجام دیا تاہم امریکی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
اگرچہ ان الزامات کے واضح شواہد موجود نہیں لیکن امریکی فوج لیزر ٹیکنالوجی پر مبنی اسی نوعیت کے ہتھیاروں پر تجربات جاری رکھے ہوئے ہے۔
پینٹاگون نے 2025 کے بجٹ میں Directed Energy Weapons پروگرامز کے لئے 789.7 ملین ڈالر کی فنڈنگ طلب کی ہے۔
ان تحقیقات کا بڑا حصہ نجی دفاعی کمپنیوں کے تعاون سے جاری ہے، جن میں ایرو وائرونمنٹ
بھی شامل ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے ’Locust X3‘ نامی لیزر سسٹم کی تیاری میں کردار ادا کیا، جو روشنی کی رفتار سے توانائی کی شعاعیں خارج کر کے ڈرونز کو ناکارہ بنا سکتا ہے۔
اسکریج اُن 11 امریکی سائنسدانوں اور محققین میں شامل ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نامعلوم فضائی مظاہر UAPs اور قومی سلامتی سے متعلق تحقیقات کے بعد پراسرار حالات میں ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔
امریکی رکنِ کانگریس ایرک برلیسن نے کہا کہ ان کا دفتر ان واقعات کی تحقیقات اس وقت سے کر رہا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ انکوائری کا حکم بھی نہیں دیا تھا اور ان واقعات کا وقت ایک ساتھ سامنے آنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے ان میں سے بعض واقعات فوجی ہوا بازی اور دفاعی شعبوں کی خفیہ معلومات تک رسائی سے جڑے ہوں اور چین، روس یا ایران جیسے مخالف ممالک کے ملوث ہونے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
اگرچہ اس معاملے پر بحث شدت اختیار کر چکی ہے لیکن امریکی فوجی حکام نے Directed Energy Weapons سے متعلق مبینہ حملوں کی تصدیق نہیں کی البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ مستقبل کے دفاعی پروگراموں کے تحت ان ہتھیاروں کی ترقی جاری رہے گی۔