وائٹ ہاؤس کے سابق مندوب برائے مشرق وسطیٰ جیسن گرین بلاٹ نے نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی نئی قیادت (کمانڈ اسٹرکچر) کا تجزیہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اس رپورٹ کی تیاری میں 20 سے زائد ایرانی حکام اور پاسداران انقلاب کے ارکان سے انٹرویو کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ شدید زخمی اور صرف تحریری نوٹوں کے ذریعے رابطے کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کمزوری چھپانے کے لیے ویڈیو پیغامات جاری کرنے سے مسلسل گریز کر رہے ہیں۔
گرین بلاٹ کے مطابق ان معلومات کے پیچھے ایرانی حکام کے مخصوص مقاصد ہو سکتے ہیں تاکہ مشکل وقت میں قیادت کے ذہنی طور پر حاضر اور فعال ہونے کا تاثر برقرار رکھا جا سکے۔
اس حوالے سے کوئی آزاد طبی ریکارڈ یا تصاویر تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نئی ایرانی قیادت شاید زیادہ عقلمندی کا مظاہرہ کرے۔
ٹرمپ کے اس بیان کا مطلب ایرانی قیادت کی فطرت میں تبدیلی نہیں بلکہ فوجی دباؤ کے باعث مذاکرات کی میز پر آنے کی عملی ضرورت اور واحد راستہ ہو سکتا ہے۔
تجزیے میں اس تاثر کو غلط قرار دیا گیا ہے کہ ایران میں مذہبی طبقے کا اثر کم ہو کر سخت گیر فوجی قیادت کے پاس جا رہا ہے۔ حقیقت میں مذہبی رہنما اور ایرانی پاسداران انقلاب ہمیشہ سے ایک ہی ایجنڈے پر مکمل طور پر متحد رہے ہیں۔
سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے 35 سالہ دور میں ایران نے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دیا۔
اسی دور میں 2009ء کی سبز تحریک اور 2022ء کے احتجاج کو بھی انتہائی سختی سے کچل دیا گیا تھا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس نے قاسم سلیمانی کی قیادت میں برسوں تک خطے میں امریکی افواج اور اتحادیوں کو نشانہ بنایا۔
ایران نے پراکسی گروپوں کے ذریعے اسرائیل اور دیگر پڑوسی ممالک کی سلامتی کے لیے مسلسل سنگین خطرات پیدا کیے ہیں۔
گرین بلاٹ کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی دہائیوں سے جاری ہے، جسے محض فروری کے حملوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ایران نے اپنے دہشت گرد گروہوں کے ذریعے پورے خطے کو طویل عرصے سے یرغمال بنا رکھا ہے۔
2017ء سے 2019ء تک وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دینے والے گرین بلاٹ کے مطابق ایرانی نظام کے تمام چہرے، خواہ وہ اصلاح پسند ہوں یا سخت گیر، ہمیشہ ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کوشاں رہے ہیں۔
تجزیے کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے پاس آپشنز انتہائی محدود ہو چکے ہیں کیونکہ مسلسل فوجی اور سفارتی دباؤ نے اسے دیوار سے لگا دیا ہے۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ کیا تہران دباؤ میں آکر کسی حقیقی اور سنجیدہ معاہدے کی طرف قدم بڑھاتا ہے یا نہیں؟۔