ایران سے
20 سال تک
یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ
کیا گیا
اس کے بدلے میں امریکی فریق ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر عائد اپنی عملی پابندیاں ہٹا دے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے گزشتہ شب PBS کو دیئے گئے انٹرویو میں اس تجویز کی بعض شقوں کی جانب اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے امریکا وہ فریق نہ ہو جو ایرانی اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم وصول کرے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ منجمدی مدت ختم ہونے کے بعد ایران کو 4 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا، جیسا کہ 2015 کے جوہری معاہدے میں تھا، اس نئے معاہدے کا حصہ نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ تہران معاہدے کے تحت اپنی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو فعال نہ کرنے کا عہد کرے گا، جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کی تنصیبات شامل ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکا ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا۔
ساتھ ہی انہوں نے عندیہ دیا کہ اگلے ہفتے اپنے چین کے دورے سے قبل بھی کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
تاہم ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے منظوری نہ دی تو بمباری پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور سخت سطح پر شروع ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس معاملے کے ختم ہونے کے اچھے امکانات موجود ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیں ان پر بے رحمانہ بمباری کرنا پڑے گی۔
دوسری جانب تہران نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز کہا کہ امریکی منصوبہ اور تجویز اب بھی زیرِ غور ہیں، جیسا کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا نے نقل کیا۔
ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ فوجی کارروائی کی معطلی سے پیدا ہونے والی مثبت فضا ایک طویل المدتی معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔