اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

تہران کے جواب کا انتظار: امریکی تجویز کی اہم شقیں سامنے آگئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران معاہدہ
ایران سے آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہوں پر پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچنے کی تصدیق کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ ایرانی فریق آئندہ چند گھنٹوں میں جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز پر اپنا جواب پیش کرے گا، جس میں 14 نکات شامل ہیں۔

ایک باخبر علاقائی ذریعے کے مطابق تہران اس تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور امکان ہے کہ آج ہی اپنا جواب حوالے کر دے جیسا کہ امریکی نشریاتی ادارے CNN نے رپورٹ کیا ہے۔

امریکی تجویز میں کیا شامل ہے؟

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے تہران سے باضابطہ اعلان کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق حکام نے مزید بتایا کہ امریکا نے ایران سے فردو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اسی طرح تجویز میں 20 سال کے لیے یورینیم افزودگی منجمد کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔

جہاں تک تقریباً 400 کلو گرام اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کا تعلق ہے، تجویز میں کہا گیا ہے کہ اسے حوالے کرنا ضروری ہوگا تاہم اگر تہران 

اس پر رضامند ہو جاتا ہے تو یہ مواد کس فریق کے حوالے کیا جائے گا، یہ اب تک واضح نہیں۔ 

یاد رہے کہ روس اس سے قبل اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم اپنے پاس لینے کی پیشکش کر چکا ہے۔

ChatGPT Image 4 مايو 2026، 01 41 02 م
واشنگٹن نے ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی باضابطہ ضمانت مانگ لی

ایران سے
20 سال تک
یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ
کیا گیا

اس کے بدلے میں امریکی فریق ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، جبکہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر عائد اپنی عملی پابندیاں ہٹا دے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ نے گزشتہ شب PBS کو دیئے گئے انٹرویو میں اس تجویز کی بعض شقوں کی جانب اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے امریکا وہ فریق نہ ہو جو ایرانی اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم وصول کرے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ منجمدی مدت ختم ہونے کے بعد ایران کو 4 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا، جیسا کہ 2015 کے جوہری معاہدے میں تھا، اس نئے معاہدے کا حصہ نہیں ہوگا۔

ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ تہران معاہدے کے تحت اپنی زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو فعال نہ کرنے کا عہد کرے گا، جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کی تنصیبات شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکا ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا۔ 

ساتھ ہی انہوں نے عندیہ دیا کہ اگلے ہفتے اپنے چین کے دورے سے قبل بھی کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

ایران کی نئی قیادت اور تہران میں جاری حالیہ سیاسی تبدیلیوں کی عکاسی
امریکا، ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادہ ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

تاہم ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے منظوری نہ دی تو بمباری پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور سخت سطح پر شروع ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اس معاملے کے ختم ہونے کے اچھے امکانات موجود ہیں، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیں ان پر بے رحمانہ بمباری کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب تہران نے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گزشتہ روز کہا کہ امریکی منصوبہ اور تجویز اب بھی زیرِ غور ہیں، جیسا کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا نے نقل کیا۔

ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ فوجی کارروائی کی معطلی سے پیدا ہونے والی مثبت فضا ایک طویل المدتی معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔