سعودی عرب میں
60 سے زائد
تفریحی سیزنز
اور پروگرامز
منعقد کیے گئے
اتھارٹی نے 38 ہزار سے زیادہ تفریحی سرگرمیوں کو لائسنس جاری کیے، جبکہ 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد نگرانی کے دورے بھی کیے گئے۔
اسی دوران جدید ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت دی گئی، جہاں ’بوابۃ الترفیہ‘ جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے سرمایہ کاروں کے لیے عمل کو آسان اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنایا۔
اتھارٹی نے عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کی، جن میں IAAPA کے ساتھ شراکت داری اور ریاض میں بین الاقوامی تفریحی کانفرنس کے دو ایڈیشنز کا انعقاد شامل ہے۔
اسی طرح انسانی وسائل کی ترقی کے پروگرامز کے ذریعے 140 ہزار سے زائد افراد کو تربیت دی گئی، جبکہ 1150 سے زیادہ ورکشاپس اور رہنمائی سیشنز منعقد کیے گئے۔
’عیشھا‘ پلیٹ فارم نے 50 ملین سے زیادہ انٹرایکشنز حاصل کیے، جبکہ اتھارٹی نے 10 ISO سرٹیفکیٹس اور گنیز ورلڈ ریکارڈز میں 30 سے زائد عالمی ریکارڈز بھی اپنے نام کیے۔
عالمی میڈیا رسائی 1.4 ارب سے تجاوز کر گئی جبکہ ویوز کی تعداد 1.9 ارب تک پہنچی، اور 15 ہزار سے زیادہ میڈیا وزٹس ریکارڈ کیے گئے۔
سعودی عرب نے اتھارٹی کے ذریعے عالمی شہرت یافتہ تقریبات کی میزبانی بھی کی، جن میں Cirque du Soleil، Disney، WWE اور UFC جیسے ایونٹس شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ’ریاض سیزن‘ جیسا عوامی میلہ منعقد کیا گیا جس کی برانڈ ویلیو 3.2 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جبکہ Joy Awards کی عالمی میڈیا رسائی 20 ارب سے تجاوز کر گئی۔
اتھارٹی نے ’علیٰ خطاہ‘ جیسے منفرد منصوبے بھی متعارف کروائے، جس کا مقصد ہجرتِ نبوی ﷺ کے تاریخی راستے کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
یہ منصوبہ 470 کلومیٹر طویل راستے اور 41 تاریخی مقامات پر مشتمل ہے، جہاں 30 ہزار سے زائد زائرین کی گنجائش ہوگی اور ایک ملین سے زائد افراد کی آمد متوقع ہے، جبکہ اس سے 25 ہزار سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ثقافتی میدان میں اتھارٹی نے ’گولڈن پین ایوارڈ‘ متعارف کروایا، جس کی انعامی رقم 7 لاکھ 40 ہزار ڈالر ہے۔
اسی طرح ’عطر الکلام‘ پروگرام میں 50 ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی اور اس نے گنیز بک میں 6 عالمی ریکارڈز قائم کیے۔
عالمی باکسنگ کے منظرنامے میں بھی اتھارٹی نے نمایاں کردار ادا کیا، جہاں ڈفائٹ آف دی سینچری‘ جیسے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں Terence Crawford اور Canelo Álvarez کے درمیان تاریخی مقابلہ شامل ہے، جسے دنیا بھر میں 41 ملین سے زیادہ افراد نے دیکھا جبکہ 70 ہزار شائقین نے اسٹیڈیم میں شرکت کی۔
آج اتھارٹی ترقی اور جدت کے مسلسل سفر پر گامزن ہے، اور واضح وژن و مسلسل کامیابیوں کی بنیاد پر سعودی عرب کو عالمی تفریحی صنعت کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر مستحکم کر رہی ہے۔