اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

جنگ بندی کی امید: مارکیٹوں میں ہلچل، ڈالر کمزور، تیل سستا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ڈالر کی گراوٹ
ڈالر انڈیکس میں 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی

آج بدھ کو امریکی ڈالر اپنی گراوٹ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد حاصل کیا گیا تمام منافع کھو بیٹھا۔

اسپاٹ ڈالر انڈیکس میں 0.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 26 فروری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گیا۔

اسپاٹ مارکیٹ میں ڈی ایکس وائی کی قیمت 97.626 کی نچلی ترین سطح تک پہنچ گئی جبکہ اس وقت یہ 98.040 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے، جس کا مقصد جنگ ختم کرنا اور مذاکرات کے لیے فریم ورک تیار کرنا ہے۔

اس رپورٹ کے بعد تقریباً تمام بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کمزور ہو گیا جبکہ امریکی اسٹاک فیوچرز میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ 

دوسری جانب جاپانی ین کی قدر میں اچانک اضافے کے باعث بھی ڈالر پہلے ہی دباؤ کا شکار تھا۔ 

الشرق بلومبرگ کے مطابق کیپیٹل ڈاٹ کام کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار ڈینییلا ہیتھورن نے کہا ہے کہ حالیہ پیش رفت صورتحال کے رخ میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے اور مارکیٹس اسے واضح طور پر مثبت اشارہ سمجھ سکتی ہیں۔

close up portrait of ben franklin on us 100 dollar 2026 03 19 22 05 56 utc
امریکی اسٹاک فیوچرز میں اضافہ جبکہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کار اب زیادہ محتاط مگر پُرامید حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں، کیونکہ مارکیٹس نے بدترین خدشات کو بتدریج اپنی قیمتوں میں شامل کرنا کم کر دیا ہے۔

مارکیٹ ماہرین نے صورتحال کو
عالمی معیشت
کے لیے مثبت
اشارہ قرار دیا

ڈالر کی سطح جنگ سے پہلے والی سطح کے قریب واپس آنا اس وقت سامنے آیا ہے جب ممکنہ سیاسی تصفیے سے متعلق امیدوں نے توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور محفوظ سرمایہ کاری کی طلب کمزور پڑ گئی ہے۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ تقریباً 9 بیسس پوائنٹس کم ہو کر 4.34 فیصد رہ گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کے فیوچرز 7 فیصد گر کر 102 ڈالر فی بیرل تک آ گئے، جو تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔
آپشنز مارکیٹ کی قیمتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب آئندہ ہفتے کے دوران ڈالر میں مزید اضافے پر پہلے جیسا اعتماد نہیں رکھتے۔
ڈالر خریدنے کے مقابلے میں فروخت کے سودوں کی طلب کا اشاریہ فروری کے آخر کے بعد پہلی بار ڈالر کے حق میں کمزور ترین سطح پر آ گیا ہے۔