خالد نواز چیمہ
جدہ
پاکستان قونصلیٹ جدہ کے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی نے جدہ کے صحافیوں کو قونصیلٹ کی نئی شاندار عمارت کا دورہ کرنے اور وہاں پاکستانیوں کو ہر شعبہ میں دی جانے والی سہولیات سے آگاہ کیا۔
انہو ں صحافیوں کو قونصلیٹ میں خوش آمدید کہتے ہوئے تمام شعبوں اور وہاں دی جانے سہولیات کو تفصیلی بتایا اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا جدہ قونصلیٹ کی نئی عمارت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت اور امید کی علامت بھی ہے۔
برسوں سے اوورسیز پاکستانی، خاص طور پر سعودی عرب کے مغربی علاقے میں رہنے والے لاکھوں افراد، قونصل خانے کی محدود سہولیات اور پرانی عمارت کی وجہ سے مختلف مسائل کا سامنا کرتے رہے۔
اب نئی عمارت کی تکمیل کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مسائل بڑی حد تک کم ہو جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ نئی عمارت جدید اور باقاعدہ سفارتی مرکز کے طور پر تعمیر کی گئی ہے، جس میں نہ صرف دفاتر کو بہتر انداز میں ترتیب دیا گیا ہے بلکہ عوامی سہولیات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
وسیع و عریض ہالز، منظم سروس کاؤنٹرز، بہتر سکیورٹی نظام اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ماحول اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت پاکستان نے اوورسیز پاکستانیوں کی ضروریات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ان میں سے ایک بڑی تعداد جدہ اور اس کے گرد و نواح میں رہتی ہے۔
یہ افراد پاسپورٹ، ویزا، شناختی کارڈ، قانونی دستاویزات اور دیگر قونصلر خدمات کے لیے قونصل خانے پر انحصار کرتے ہیں۔
ماضی میں پرانی عمارت میں جگہ کی کمی، طویل قطاریں، اور غیر منظم نظام جیسے مسائل اکثر شکایات کا سبب بنتے تھے۔
نئی عمارت کا ایک بڑا مقصد انہی مسائل کا خاتمہ ہے۔
نئی چانسری میں عوام کے لیے انتظار کی بہتر جگہیں فراہم کی گئی ہیں، جس سے ہجوم اور بے ترتیبی میں کمی آئے گی۔
اس کے علاوہ مختلف خدمات کے لیے الگ الگ کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔
اگر ان سہولیات کو مؤثر طریقے سے چلایا جائے تو یہ قونصل خانے کے مجموعی نظام میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔
یہ عمارت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط تعلقات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
سعودی حکومت کی جانب سے سفارتی سہولیات کی فراہمی اور پاکستان کی جانب سے اپنی کمیونٹی کے لیے بہتر اقدامات دونوں ممالک کے باہمی تعاون کا مظہر ہیں۔
جدہ میں پاکستانی قونصل خانے کی نئی عمارت ایک مثبت اور خوش آئند قدم ہے۔
یہ نہ صرف ایک جدید انفراسٹرکچر فراہم کرتی ہے بلکہ اس سے اوورسیز پاکستانیوں کو یہ احساس بھی ملتا ہے کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
قونصل جنرل نے اختتام پر 5 مئی کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہ آج صحافیوں سے ملتے ہوئے مجھے خوشی ہورہی ہے کہ یہ پاکستان کے لئے بھی اہم دن ہے جس روز معرکہ حق، بنیان مرصون سے ہماری بہادر افواج نے کامیابی کی ایک تاریخ رقم کی۔
کوشش ہے کہ 10 مئی کو اس دن کے حوالے سے کمیونٹی کو قونصلیٹ میں دعوت دی جائے۔
صحافیوں نے قونصل جنرل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نئی قونصلیٹ بیرون ملک پاکستان کے مثبت تصور کی ایک تصویر ہے جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے۔