جدید ٹیکنالوجی نے انسانی چہرے کو ایک منفرد ڈیجیٹل کوڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
حال ہی میں کمپنی ’ڈزنی‘ نے کیلیفورنیا کے اپنے تفریحی مقامات پر مکمل چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی فعال کی ہے۔ یہ پیشرفت سہولت اور پرائیویسی کے مابین ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے۔
ڈزنی کے مطابق کمپنی زائرین کی تصاویر کو روایتی ڈیٹا بیس میں محفوظ نہیں کرتی بلکہ کیمرے چہرے کے خدوخال کو منفرد عددی اقدار میں بدل دیتے ہیں۔
یہ جدید نظام ٹکٹ خریدتے وقت لی گئی تصویر سے مطابقت پیدا کر کے داخلے کی تصدیق کرتا ہے اور ڈیٹا 30 دن میں حذف کر دیا جاتا ہے۔
سہولت یا نگرانی
اگرچہ ڈزنی نے اسے ایک اختیاری عمل قرار دیا ہے، لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔
زیادہ تر داخلی راستوں پر اسکینرز نصب ہیں، جبکہ دیگر راستے محدود اور طویل انتظار کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار وقت کے دباؤ کے باعث زائرین کو ٹیکنالوجی اپنانے پر مجبور کرتا ہے۔
خطرہ: ڈیٹا پرائیویسی اور ٹریکنگ
پرائیویسی ماہرین کے مطابق یہ نظام انسانی شناخت کو ٹریکنگ کی کرنسی بنا رہا ہے۔
تفریحی مقامات پر اسکیننگ کا مطلب ہے کہ فرد کی ہر حرکت ایک ڈیجیٹل ریکارڈ بن جاتی ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی دیگر شعبوں جیسے بینکنگ میں عام ہوئی تو شہریوں کی ذاتی نقل و حرکت محفوظ نہیں رہے گی۔
تکنیکی پیچیدگیاں اور تعصب
چہرے کی شناخت محض ایک تصویر نہیں بلکہ ’ویکٹر انکوڈنگ‘ ہے، جس میں ناک کی لمبائی، آنکھوں کا فاصلہ اور جبڑے کے زاویوں کو ریاضیاتی مساوات میں بدلا جاتا ہے۔
تاہم ماضی کے مطالعات کے مطابق ان الخوارزمز میں خواتین اور سیاہ جلد والے افراد کے لیے ’الگورتھمک تعصب‘ کے باعث غلطیوں کا امکان موجود رہتا ہے۔
ڈیٹا سیکیورٹی کے چیلنجز
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مبصرین کا خیال ہے کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا معمول بننا ہے۔
ڈیٹا کا ایک مرکزی بیس میں جمع ہونا سیکیورٹی کا بڑا خطرہ ہے، کیونکہ پاس ورڈ تو تبدیل کیے جا سکتے ہیں مگر چہرے کے بائیو میٹرک ڈیٹا کے لیک ہونے پر اسے تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
ڈزنی کا یہ قدم اس عالمی رجحان کا حصہ ہے جہاں ہوائی اڈوں، اسٹیڈیمز اور شاپنگ سینٹرز میں بائیو میٹرک شناخت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ آج کا انسان داخلے کے لیے محض رقم نہیں بلکہ اپنی پرائیویسی کا کچھ حصہ بھی ادا کر رہا ہے۔ شفاف قانون سازی کے بغیر یہ پیشرفت ڈیجیٹل دور میں فرد کی آزادی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔