ایران میں حالیہ جنگ اور امریکی اقتصادی پابندیوں کے بعد سے معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ تہران کی سڑکوں پر بظاہر معمول کی زندگی نظر آتی ہے، جہاں لوگ پارکوں میں محوِ تفریح ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے گہرے اثرات اب معاشرے کے ہر شعبے میں نمایاں طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔
مختلف شہروں میں شاہراہوں پر نصب بینرز اور تصاویر اس تباہی کی کہانی سنا رہے ہیں۔
خاص طور پر میناب گورنریٹ کے ’شجرِ طیبہ‘ گرلز اسکول پر اسرائیلی اور امریکی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی طالبات کی تصاویر عوام کے دُکھ اور صدمے کی عکاسی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
فضائی سفر اور سیاحتی بحران
ایران میں فضائی ٹریفک کی معطلی نے ٹریول اینڈ ٹورازم سیکٹر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ایک معروف ٹریول کمپنی نے اخراجات کم کرنے کے لیے اپنے 90 فیصد ملازمین کو فارغ کر دیا ہے، جہاں اب صرف 7 فیصد عملہ کام کر رہا ہے۔
اس حوالے سے اقتصادی ماہرین کی جانب سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ بحالی میں مزید تاخیر سے ایئرلائنز دیوالیہ ہو سکتی ہیں۔
مہنگائی اور اشیائے خوردونوش کی قلت
’آب ساؤنڈ‘ مارکیٹ میں دکانداروں کے مطابق جنگ کی وجہ سے قوتِ خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔
بنیادی اشیا بشمول انڈوں کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ پنیر اور خشک مچھلی جیسی اشیا کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دُور ہوتی جا رہی ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت اور انٹرنیٹ کی بندش
جنگ اور پابندیوں سے ایران کی ڈیجیٹل معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔
انٹرنیٹ کی بین الاقوامی سروس معطل ہونے سے آن لائن کاروبار کرنے والوں کا روزگار ختم ہو چکا ہے۔ بہت سے افراد، جو سوشل میڈیا کے ذریعے تجارت کرتے تھے، اب آمدن کے متبادل ذرائع سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں۔
قومی ترجیحات اور عوامی ردعمل
معاشی مشکلات کے باوجود بہت سے ایرانی شہری اس صورتحال کو قومی بقا کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔
سماجی کارکن میثم شرفی کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید اپنی جگہ لیکن موجودہ وقت میں ملکی دفاع اور جنگ کے خلاف متحد ہونا ہر شہری کی اولین ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے 8 اپریل تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد اگرچہ فائر بندی ہو چکی ہے، مگر امریکی اقتصادی پابندیوں اور ناکابندی نے ایران کی بندرگاہوں اور تجارتی نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔
یہ طویل مدتی اقتصادی نقصان ایران کے بنیادی ڈھانچے اور عام شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔