1860ء میں ابراہم لنکن کے صدر منتخب ہونے کے بعد خانہ جنگی کی صورت میں امریکہ تقسیم کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔
مزید پڑھیں
غلامی کے حامی جنوبی حصوں نے وفاق سے علیحدگی اختیار کر کے کنفیڈریٹ ریاستیں قائم کر لیں، جس کے نتیجے میں 1861 میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا جو 1865 تک جاری رہی۔
تعمیر اور خفیہ معاہدہ
یہ جہاز 1863 میں اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں ’سی کنگ‘ کے نام سے تعمیر کیا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر اسے تجارتی مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا۔ 1864 میں کنفیڈریٹ حکام نے الیگزینڈر کولی اینڈ کمپنی کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر کے یہ جہاز حاصل کر لیا۔
جنگی حیثیت میں تبدیلی
برطانیہ کی غیر جانبداری کا احترام کرتے ہوئے اسے غیر مسلح بیچا گیا تھا، تاہم بحر اوقیانوس میں مادیرا جزیرے کے قریب پہنچ کر اس کا نام ’شینانڈوا‘ رکھ دیا گیا اور ’لورل‘ نامی جہاز سے اسلحہ منتقل کر کے اسے ایک طاقتور کنفیڈریٹ جنگی جہاز میں بدل دیا گیا۔
قذاقی کارروائیاں اور ریکارڈ
شینانڈوا نے بحر الکاہل میں شمالی ریاستوں کے تجارتی جہازوں اور وہیل مچھلی کے شکاریوں کو نشانہ بنایا۔
اس جہاز نے اپنے سفر کے دوران تقریباً 38 یونین جہازوں کو تباہ یا قبضے میں لیا، جو اس دور میں ایک ریکارڈ کارکردگی تھی اور دشمن کے لیے خوف کی علامت بنی۔
حربہ اور ہتھیار ڈالنا
جنگ کے خاتمے کی خبر دیر سے ملنے کے باعث شینانڈوا کے عملے نے کئی ماہ تک کارروائیاں جاری رکھیں۔
بالآخر نومبر 1865 میں عملے نے برطانوی حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ یوں یہ امریکی خانہ جنگی میں ہتھیار ڈالنے والی آخری کنفیڈریٹ جنگی کشتی ثابت ہوئی۔
زنجبار منتقلی اور انجام
بعد ازاں برطانیہ نے اسے امریکیوں کے حوالے کیا، جنہوں نے اسے فروخت کر دیا۔
1867 میں زنجبار کے سلطان ماجد بن سعید نے اسے خرید کر ’المجیدی‘ کا نام دیا۔ 1872 کے طوفان میں تباہ ہونے کے بعد مرمت کے دوران 1879 میں یہ خلیج عدن میں ڈوب گیا۔
شینانڈوا یعنی المجیدی کی تاریخ ایک ایسے دور کی عکاسی کرتی ہے جہاں تکنیکی جدت اور سیاسی تنازعات کا گٹھ جوڑ تھا۔
ایک تجارتی جہاز سے جنگی مشین بننے اور پھر ایک دور دراز سلطنت کے وقار کا حصہ بننے تک کا اس کا سفر عسکری تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہے۔