7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ 2 برس سے زائد عرصے سے جاری ہے۔
مزید پڑھیں
مبصرین کے مطابق ایران کے علاقائی اثر و رسوخ میں کمی کے بعد اب یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اس جنگ کا حتمی مقصد کیا ہے اور کیا تہران میں حکومت کی تبدیلی کا ارادہ خطے میں امن لائے گا؟
امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف جنگ پر متفق نظر آتے ہیں، مگر ان کے اہداف میں واضح فرق ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے نظام کو گرا کر اسے چھوٹے حصوں میں
تقسیم کیا جائے، جبکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ قیادت میں تبدیلی اور نظام کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔
علاقائی استحکام اور نظام کی تبدیلی کا خطرہ
کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات سے متعلق 3 بنیادی اصول ہیں: ریاست کی وحدت کا تحفظ، حدود کا احترام اور براہ راست نظام بدلنے سے گریز۔
1979ء کے انقلاب کے بعد کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایران جیسے پیچیدہ ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی خطے کو شدید انتشار میں دھکیل سکتی ہے۔
عالمی قوتوں کا محتاط رویہ
مغربی طاقتیں بشمول یورپی ممالک خاموشی سے نظام کی تبدیلی کے حق میں ہیں، تاہم روس اور چین اس حوالے سے محتاط ہیں۔
ماسکو اور بیجنگ کو خدشہ ہے کہ واشنگٹن نواز نظام کا قیام یا ایران میں انارکی ان کے تزویراتی اور معاشی مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
عراق اور ایران کے حالات میں فرق
بعض حلقے صدام حسین کے خاتمے کے تناظر میں ایران میں بھی ایسی ہی تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ استدلال درست نہیں، کیونکہ عراق میں استحکام کے لیے 2 لاکھ امریکی فوجی موجود تھے۔ ایران کے کیس میں ایسا کوئی زمینی آپشن نہیں، جس سے خطے میں طویل مدتی غیر یقینی کا خطرہ ہے۔
ایران کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ
ایران آج جس مشکل صورتحال سے دوچار ہے، اس کی بنیادی وجہ اس کا پڑوسی ممالک کے امور میں عدم مداخلت کے اصولوں کو نظر انداز کرنا ہے۔
تہران نے شام، عراق، لبنان اور یمن میں اپنی پالیسیوں کے ذریعے نہ صرف علاقائی امن کو متاثر کیا بلکہ خود کو بھی ایک گہرے بحران میں دھکیل لیا۔
نظام کا سخت گیر مؤقف کیوں؟
سوال یہ ہے کہ خطرات کے باوجود تہران مذاکرات میں لچک کیوں نہیں دکھاتا؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ سمجھتا ہے کہ بیرونی مطالبات ماننے سے اندرونی تقسیم اور بغاوت کا خطرہ بڑھے گا۔ لہذا نظام اپنی بقا کے لیے بیرونی دشمنی کے بیانیے کو تقویت دے رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایران کا مستقبل محض حکومت کی تبدیلی سے وابستہ نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی چیلنج ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرونی مداخلت سے ملک کو تقسیم کرنے کے تجربات خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایران کے لیے واحد راستہ علاقائی ذمہ داریوں کا احساس اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری ہے، تاکہ داخلی انتشار سے بچا جا سکے۔