اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

چین سے آنے والی زہریلی چیونٹیوں کے امریکی ریاستوں میں حملے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا میں زہریلی چیونٹیوں کے حملے اور متاثرہ ریاستوں میں خوف و ہراس کی عکاسی
امریکی ریاستوں پر حملہ آور خطرناک چیونٹیاں (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکا کو اس وقت ایک غیر معمولی اور خطرناک صورتحال کا سامنا ہے، جہاں چین سے تعلق رکھنے والی زہریلی چیونٹیوں نے دستک دے دی ہے۔

مزید پڑھیں

ان چیونٹیوں کے پھیلاؤ نے عوامی سطح پر سنگین خدشات کو جنم دیا ہے کہ کہیں یہ منصوبہ بند بائیولوجیکل حملہ تو نہیں ہے۔

تیزی سے پھیلتا ہوا خطرہ

برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کی رپورٹ کے مطابق ایشیائی سوئی نما چیونٹیاں اب تک امریکا کی کم از کم 20 ریاستوں تک پھیل چکی ہیں۔ 

 اگرچہ یہ پہلی بار 90 برس قبل دیکھی گئی تھیں، مگر حالیہ دنوں میں 

ان کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

متاثرہ ریاستوں کی تفصیل

یہ چیونٹیاں فلوریڈا، جارجیا، الاباما، مسیسیپی، آرکنساس، ٹینیسی، نارتھ کیرولائنا، ساؤتھ کیرولائنا، کینٹکی، ورجینیا، اوہائیو، پنسلوانیا، میری لینڈ، کنیٹی کٹ، روڈ آئی لینڈ، میساچوسٹس، نیویارک، وسکونسن، واشنگٹن اور ٹیکساس میں دیکھی گئی ہیں۔

سنگین صورت حال سامنے آتے ہی حکام ان علاقوں میں عوامی حفاظت کے حوالے سے انتہائی چوکس ہو گئے ہیں۔

چیونٹیوں کی جسمانی ساخت

ایشیائی سوئی نما چیونٹیوں کا سائز چھوٹے سے لے کر درمیانے جتنا ہوتا ہے، جس کی لمبائی تقریباً 3 ملی میٹر ہے۔

ان کی ظاہری شکل گہرے بھورے سے سیاہ رنگ کی ہوتی ہے، جبکہ ان کے اینٹینا اور ٹانگوں کے سرے ہلکے نارنجی اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔

امریکا میں زہریلی چیونٹیوں کے حملے اور متاثرہ ریاستوں میں خوف و ہراس کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

طبی اثرات اور علامات

امریکی محکمہ زراعت کے مطابق ان چیونٹیوں کے کاٹنے سے شدید درد ہوتا ہے جو گھنٹوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

بعض افراد میں یہ درد کاٹنے والی جگہ کے علاوہ جسم کے دوسرے حصوں میں بھی محسوس ہوتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

جان لیوا الرجی کا امکان

سب سے خطرناک پہلو ان چیونٹیوں کا شدید الرجک ردعمل ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں میں ان کے کاٹنے سے ایسی الرجی پیدا ہو سکتی ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ غیر متوقع طبی پیچیدگیاں عوام کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔

ٹھکانوں کی تلاش

یہ چیونٹیاں قدرتی طور پر نم جگہوں، جیسے پتھروں اور گلے سڑے درختوں کے تنوں تلے رہنا پسند کرتی ہیں۔

تاہم یہ باغات، لان، پودوں کے گملوں، لکڑی کے ڈھیروں، اینٹوں اور ٹائلز جیسی تعمیراتی اشیا میں بھی باآسانی چھپ سکتی ہیں، جس سے ان کا خاتمہ مشکل ہے۔

سائنس دانوں کا ردعمل

رائس یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے حیاتیات سکاٹ ایگن کا کہنا ہے کہ ان زہریلی چیونٹیوں کے بارے میں آگاہی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سائنسی حلقوں کو اس نوع کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے موثر حکمت عملی وضع کی جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی ریاستوں میں ان چیونٹیوں کا تیزی سے پھیلاؤ ایک پیچیدہ ماحولیاتی اور سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ 

اگرچہ ابھی تک اسے باضابطہ حملہ قرار نہیں دیا گیا، تاہم ان کے زہریلے اثرات عوامی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، جس کے تدارک کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔