اہم خبریں
7 May, 2026
--:--:--

سو ارب ڈالر کی واپسی؟ ایران کی قسمت بدلنے والی ڈیل قریب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران کے منجمد اثاثے
2015 کے جوہری معاہدے کے بعد ایران کو 4.2 ارب ڈالر واپس ملے تھے

1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی سمیت کئی میدانوں تک پھیل گئی۔ 

اقتصادی سطح پر سب سے نمایاں اقدام واشنگٹن کی جانب سے ایران کے بھاری مالی اثاثوں کو منجمد کرنا تھا، جو تہران پر عائد پابندیوں کا حصہ تھا۔

امریکا نے 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران کے بعد ایرانی اثاثے منجمد کرنا شروع کئے اور بعد میں جوہری پروگرام کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے تنازع کے ساتھ یہ پابندیاں مزید سخت ہوتی گئیں۔

مزید پڑھیں

کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کی مالیت تقریباً 100 ارب ڈالر ہے۔

ادارے کے مطابق واشنگٹن نے ان اثاثوں کو منجمد کر کے ایرانی مرکزی بینک کو مختلف ممالک میں موجود اپنے زرمبادلہ ذخائر تک رسائی سے محروم کیا، جس سے ایران کے لیے ریال کی قدر کو سنبھالنا، درآمدات کی ادائیگی کرنا اور ملکی معیشت کو سہارا دینا مشکل ہو گیا، خصوصاً بحران کے اوقات میں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔

banknote accounting with pen and official document 2026 01 08 22 18 31 utc
چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا میں ایرانی رقوم بڑی مقدار میں موجود ہیں

ان پابندیوں کے ممکنہ خاتمے کا ایرانی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟

ایران نے 2015 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت تہران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ بدلے میں اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی۔

ایران میں
مہنگائی کی شرح
73.5 فیصد تک
پہنچ چکی ہے

اس معاہدے کے بعد ایران کو بیرون ملک موجود اپنے منجمد اثاثوں تک جزوی رسائی ملی اور وہ 4.2 ارب ڈالر مالیت کی تیل آمدن واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
تاہم 2018 میں ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کر دیں، جس کے نتیجے میں تہران ان منجمد رقوم کو استعمال کرنے سے محروم ہو گیا۔
رائٹرز کے مطابق زیادہ تر وہ ممالک جہاں ایران کی بڑی رقوم منجمد ہیں، وہی ممالک ہیں جو ایرانی تیل اور گیس خریدتے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ رقوم مغربی ممالک کو اسلحہ خریدنے کے لیے ادا کی گئی تھیں، لیکن شاہ ایران کے خاتمے کے بعد وہ اسلحہ تہران کے حوالے نہیں کیا گیا۔

چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا ان اہم ممالک میں شامل ہیں جہاں ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم منجمد ہیں۔ 

عراق بھی ان ممالک میں شامل ہے کیونکہ وہ اپنی بجلی کی ضروریات کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے۔

2018 کے بعد ایران نے کئی بار کوشش کی کہ وہ ان ممالک کے ساتھ بارٹر یا تبادلہ تجارت کے معاہدے کرے تاکہ منجمد رقوم کو ایسی اشیا خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکے جو امریکی پابندیوں میں شامل نہیں لیکن بیشتر ممالک نے امریکی انتقامی اقدامات کے خوف سے ایسے معاہدوں سے گریز کیا۔

financial planning with currency calculator and 2026 01 09 01 18 14 utc
خوراک کی قیمتوں میں 115 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا

اس کے باوجود تہران مسلسل اپنی منجمد رقوم واپس لینے اور پابندیاں ختم کرانے کی کوشش کرتا رہا کیونکہ ان پابندیوں کے خاتمے سے ایران کو بڑے اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔

ایران کو حالیہ جنگ سے پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا سامنا تھا، جو 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد مزید بڑھ گئیں۔ 

ان مشکلات میں سب سے نمایاں ایرانی ریال کی مسلسل گرتی ہوئی قدر ہے، جو اس وقت سرکاری نرخ کے مطابق تقریباً 17 لاکھ 70 ہزار ریال فی ڈالر (تقریباً 1 لاکھ 78 ہزار تومان) تک پہنچ چکی ہے۔

جنگ کے باعث
10 لاکھ سے زائد
ملازمتیں ختم
ہو چکی ہیں

ماہرین کے مطابق ایران میں مہنگائی کی شرح سالانہ 73.5 فیصد تک جا پہنچی ہے، جبکہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 115 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ شہریوں کو بنیادی اشیاء خریدنے کے لیے دی جانے والی سبسڈی اور کوپن کی مالیت دوگنا کی جائے گی۔
بڑھتی ہوئی بے روزگاری ایران خاص طور پر نوجوانوں میں بے روزگاری کے بڑھتے بحران کا شکار ہے۔
جنگ نے اس صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔
ایرانی وزارتِ محنت کے معاون غلام حسین محمدی کے مطابق جنگ نے اب تک 10 لاکھ سے زائد ملازمتیں ختم کر دی ہیں، جبکہ تقریباً 20 لاکھ مزید روزگار براہِ راست اور بالواسطہ متاثر ہوئے ہیں۔

الجزیرہ کے تہران میں موجود نمائندے کے مطابق تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کی حقیقی شرح سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو انٹرنیٹ سے وابستہ روزگار پر انحصار کرتے تھے اور اب ان کی آمدنی ختم ہو چکی ہے۔

ایران میں کم از کم تنخواہ تقریباً 170 ملین ریال (تقریباً 96 ڈالر) ہے، جسے ایرانی حکومت نے مارچ میں 60 فیصد بڑھایا تھا۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اندازوں کے مطابق، جنہیں گارڈین نے نقل کیا، معیارِ زندگی میں گراوٹ اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تقریباً 40 لاکھ ایرانی غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔

close up of iranian rial banknotes in wallet 2026 03 17 17 36 23 utc
غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 115 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا

ایران کی اس سنگین معاشی صورتحال، جسے جنگی دباؤ نے مزید خراب کر دیا، کے پیش نظر منجمد اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں کے خاتمے کو ایرانی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق 2024 میں ایران کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً 475 ارب ڈالر تھی۔ اس لحاظ سے 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے ایک سال کی مجموعی قومی پیداوار کے 20 فیصد سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔

اس حوالے سے توانائی امور کے ماہر محمد سلامہ نے الجزیرہ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اس کی معیشت کے لیے بے حد اہم ہے، کیونکہ ایرانی معیشت کی کمزوری اندرونی عوامل کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکی پابندیوں کے سبب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پابندیاں ختم ہو جائیں تو ایران تیل اور گیس کی آمدن کے ذریعے بہتر اقتصادی ترقی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ چین کے ساتھ اس کے اقتصادی تعلقات بھی مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ 

چین میں ایران کی تقریباً 20 ارب ڈالر کی رقوم منجمد ہیں۔

ماہر ممدوح سلامہ کے مطابق پابندیاں ختم ہونے سے ایران کو درج ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:

  • ایرانی مرکزی بینک بیرونی تجارت کی ادائیگیوں کو بہتر انداز میں منظم کر سکے گا۔
  • مختلف ممالک کے ساتھ تجارت کی شرائط بہتر ہوں گی، جس سے درآمدی اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی۔
  • ایرانی مارکیٹ میں ڈالر کی فراہمی بڑھے گی، جس سے ریال کی قدر مضبوط ہوگی۔
  • کرنسی مستحکم ہونے اور درآمدی لاگت کم ہونے سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔
  • منجمد رقوم جنگ سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ کی جا سکیں گی، جس سے خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔