ایران میں
مہنگائی کی شرح
73.5 فیصد تک
پہنچ چکی ہے
اس معاہدے کے بعد ایران کو بیرون ملک موجود اپنے منجمد اثاثوں تک جزوی رسائی ملی اور وہ 4.2 ارب ڈالر مالیت کی تیل آمدن واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
تاہم 2018 میں ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کر دیں، جس کے نتیجے میں تہران ان منجمد رقوم کو استعمال کرنے سے محروم ہو گیا۔
رائٹرز کے مطابق زیادہ تر وہ ممالک جہاں ایران کی بڑی رقوم منجمد ہیں، وہی ممالک ہیں جو ایرانی تیل اور گیس خریدتے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ رقوم مغربی ممالک کو اسلحہ خریدنے کے لیے ادا کی گئی تھیں، لیکن شاہ ایران کے خاتمے کے بعد وہ اسلحہ تہران کے حوالے نہیں کیا گیا۔
چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا ان اہم ممالک میں شامل ہیں جہاں ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ رقوم منجمد ہیں۔
عراق بھی ان ممالک میں شامل ہے کیونکہ وہ اپنی بجلی کی ضروریات کے لیے ایران پر انحصار کرتا ہے۔
2018 کے بعد ایران نے کئی بار کوشش کی کہ وہ ان ممالک کے ساتھ بارٹر یا تبادلہ تجارت کے معاہدے کرے تاکہ منجمد رقوم کو ایسی اشیا خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکے جو امریکی پابندیوں میں شامل نہیں لیکن بیشتر ممالک نے امریکی انتقامی اقدامات کے خوف سے ایسے معاہدوں سے گریز کیا۔
اس کے باوجود تہران مسلسل اپنی منجمد رقوم واپس لینے اور پابندیاں ختم کرانے کی کوشش کرتا رہا کیونکہ ان پابندیوں کے خاتمے سے ایران کو بڑے اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔
ایران کو حالیہ جنگ سے پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا سامنا تھا، جو 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد مزید بڑھ گئیں۔
ان مشکلات میں سب سے نمایاں ایرانی ریال کی مسلسل گرتی ہوئی قدر ہے، جو اس وقت سرکاری نرخ کے مطابق تقریباً 17 لاکھ 70 ہزار ریال فی ڈالر (تقریباً 1 لاکھ 78 ہزار تومان) تک پہنچ چکی ہے۔
جنگ کے باعث
10 لاکھ سے زائد
ملازمتیں ختم
ہو چکی ہیں
ماہرین کے مطابق ایران میں مہنگائی کی شرح سالانہ 73.5 فیصد تک جا پہنچی ہے، جبکہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 115 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد ایرانی حکومت نے اعلان کیا کہ شہریوں کو بنیادی اشیاء خریدنے کے لیے دی جانے والی سبسڈی اور کوپن کی مالیت دوگنا کی جائے گی۔
بڑھتی ہوئی بے روزگاری ایران خاص طور پر نوجوانوں میں بے روزگاری کے بڑھتے بحران کا شکار ہے۔
جنگ نے اس صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔
ایرانی وزارتِ محنت کے معاون غلام حسین محمدی کے مطابق جنگ نے اب تک 10 لاکھ سے زائد ملازمتیں ختم کر دی ہیں، جبکہ تقریباً 20 لاکھ مزید روزگار براہِ راست اور بالواسطہ متاثر ہوئے ہیں۔
الجزیرہ کے تہران میں موجود نمائندے کے مطابق تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کی حقیقی شرح سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو انٹرنیٹ سے وابستہ روزگار پر انحصار کرتے تھے اور اب ان کی آمدنی ختم ہو چکی ہے۔
ایران میں کم از کم تنخواہ تقریباً 170 ملین ریال (تقریباً 96 ڈالر) ہے، جسے ایرانی حکومت نے مارچ میں 60 فیصد بڑھایا تھا۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اندازوں کے مطابق، جنہیں گارڈین نے نقل کیا، معیارِ زندگی میں گراوٹ اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تقریباً 40 لاکھ ایرانی غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔
ایران کی اس سنگین معاشی صورتحال، جسے جنگی دباؤ نے مزید خراب کر دیا، کے پیش نظر منجمد اثاثوں کی واپسی اور پابندیوں کے خاتمے کو ایرانی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق 2024 میں ایران کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً 475 ارب ڈالر تھی۔ اس لحاظ سے 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے ایک سال کی مجموعی قومی پیداوار کے 20 فیصد سے بھی زیادہ بنتے ہیں۔
اس حوالے سے توانائی امور کے ماہر محمد سلامہ نے الجزیرہ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اس کی معیشت کے لیے بے حد اہم ہے، کیونکہ ایرانی معیشت کی کمزوری اندرونی عوامل کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکی پابندیوں کے سبب ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پابندیاں ختم ہو جائیں تو ایران تیل اور گیس کی آمدن کے ذریعے بہتر اقتصادی ترقی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ چین کے ساتھ اس کے اقتصادی تعلقات بھی مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
چین میں ایران کی تقریباً 20 ارب ڈالر کی رقوم منجمد ہیں۔
ماہر ممدوح سلامہ کے مطابق پابندیاں ختم ہونے سے ایران کو درج ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:
- ایرانی مرکزی بینک بیرونی تجارت کی ادائیگیوں کو بہتر انداز میں منظم کر سکے گا۔
- مختلف ممالک کے ساتھ تجارت کی شرائط بہتر ہوں گی، جس سے درآمدی اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی۔
- ایرانی مارکیٹ میں ڈالر کی فراہمی بڑھے گی، جس سے ریال کی قدر مضبوط ہوگی۔
- کرنسی مستحکم ہونے اور درآمدی لاگت کم ہونے سے مہنگائی میں کمی آئے گی۔
- منجمد رقوم جنگ سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی بحالی پر خرچ کی جا سکیں گی، جس سے خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔