خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافہ، مرغی 75 فیصد اور گوشت 68 فیصد مہنگا
ایک کیمیکل انجینئر، جو ایران کی ایک بڑی نجی تعمیراتی کمپنی میں کام کرتا ہے، نے بتایا کہ اس کی کمپنی نے اپنے مرکزی دفتر کے 180 ملازمین میں سے نصف کو نکال دیا ہے اور ’مبارکہ اسٹیل‘ کمپنی کے ساتھ ایک منصوبہ بھی روک دیا گیا ہے، جس سے ایک ہزار ملازمتیں ختم ہو گئیں۔
تہران کے ایک رہائشی نے بتایا کہ اس نے جنگ سے قبل بطور انجینئرنگ کنسلٹنٹ اپنی ملازمت چھوڑ دی تھی اور نئی ملازمت جو وہ حاصل کرنے والا تھا، اب غیر یقینی ہو چکی ہے۔
اس نے کہا کہ میں معاشرے کے اوپر کے ایک فیصد میں شمار ہوتا ہوں، اور اب بے روزگار ہوں۔
میں اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پریشان ہوں، اور یہ بھی کہا کہ لوگوں کی بچتیں آنے والے ہفتوں میں ختم ہونا شروع ہو جائیں گی۔
اسی طرح ڈیری فیکٹریاں دودھ اور مکھن کی پیکنگ کے لیے ڈبوں کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ بڑی اسٹیل فیکٹریاں، جو کبھی ایرانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھیں، اب خاموش ہو چکی ہیں۔
لاکھوں افراد بے روزگار
سینکڑوں ہزار افراد اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں جبکہ لاکھوں مزید اپنی روزی سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے 5 ہفتوں سے زائد عرصے کے دوران فضائی حملوں نے ہزاروں ایرانی فیکٹریوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس تباہی کے اثرات پوری معیشت میں پھیل چکے ہیں، جس سے مزید برطرفیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ عوام مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ چکن کی قیمت میں 75 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گائے اور بھیڑ کے گوشت کی قیمتیں 68 فیصد بڑھ گئیں۔
اسی طرح کئی ڈیری مصنوعات کی قیمتیں تقریباً نصف تک بڑھ چکی ہیں۔
صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے
اگر امریکہ کی جانب سے بندرگاہوں کا محاصرہ جاری رہا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، کیونکہ اس سے درآمدات اور تیل کی برآمدات شدید متاثر ہو رہی ہیں، جو اربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز کارڈ، عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ
اس کے باوجود ایران کے پاس عالمی معیشت پر اثر انداز ہونے کا اپنا ہتھیار موجود ہے، یعنی آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولیں گے جب تک محاصرہ ختم نہ ہو اور جنگ کا خاتمہ نہ ہو جائے۔
وہ اس بات پر بھی انحصار کر رہے ہیں کہ طویل عرصے سے پابندیوں کے باوجود خود انحصاری پر مبنی معیشت درد برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے، بنسبت امریکی صدر ڈونلڈ کے۔
اس تناظر میں نائب وزیر محنت غلام حسین محمدی نے کہا کہ جنگ کے باعث کم از کم 10 لاکھ ملازمتیں براہ راست ختم ہو چکی ہیں، جبکہ ماہر اقتصادیات ہادی کہلزاده کے مطابق اس کے بالواسطہ اثرات ایک کروڑ سے ایک کروڑ 20 لاکھ ملازمتوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں، جو کہ ایران کی تقریباً نصف ورک فورس بنتی ہے۔
اسٹیل اور پیٹروکیمیکل شعبے مفلوج
کہلزاده کے مطابق تقریباً 20 ہزار فیکٹریاں، یعنی ملک کی 20 فیصد پیداواری یونٹس متاثر ہوئی ہیں۔
ان میں ادویات بنانے والی بڑی کمپنی ’توفیق دارو‘، بصری اور کیمیائی صنعتیں اور ایلومینیم و سیمنٹ کے کارخانے شامل ہیں۔
سب سے بڑا نقصان اس وقت ہوا جب اسرائیل نے بڑے اسٹیل اور پیٹروکیمیکل کارخانوں کو نشانہ بنایا، جن میں ’مبارکہ اسٹیل‘ اور ’خوزستان اسٹیل‘ جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں، جنہوں نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں۔
اس کے علاوہ 50 سے زائد پیٹروکیمیکل کمپلیکس بھی بند ہو چکے ہیں، جس سے ایران کی سب سے بڑی غیر تیل برآمدات متاثر ہوئیں اور پلاسٹک، پائپ، کپڑے اور پیکنگ مواد سمیت کئی شعبوں میں قیمتیں بڑھ گئیں۔
یہ بحران صرف فضائی حملوں کا نتیجہ نہیں بلکہ انٹرنیٹ کی بندش نے بھی چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے جو آن لائن فروخت پر انحصار کرتے تھے۔
پہلے کون ہمت ہارتا ہے؟
حکام عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران اس معاشی دباؤ کو برداشت کر سکتا ہے اور حکومت نے بے روزگاری الاؤنس بڑھانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔
تاہم سوشل سیکیورٹی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ اس کی مالی بنیادیں پیٹروکیمیکل اور دیگر بڑی صنعتوں سے وابستہ ہیں۔
امریکی محاصرے نے برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ ایران نے 2025 میں تقریباً 98 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، جن میں تقریباً نصف تیل پر مشتمل تھیں۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ مکمل محاصرہ ممکن نہیں کیونکہ ایران کی غیر تیل تجارت کا تقریباً نصف حصہ زمینی راستوں یا بحیرہ کیسپین کے ذریعے ہوتا ہے۔
ایران نے بدترین حالات سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ ذخائر بھی جمع کر رکھے ہیں، جن میں برقی آلات کے آٹھ ماہ، سیمنٹ کے 6 ماہ اور اسٹیل کے تقریباً 4 ماہ کے ذخائر شامل ہیں، جنہیں کھپت کم کر کے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ تہران اب تک امریکی شرائط تسلیم کرنے سے گریز کر رہا ہے اور اس حکمت عملی پر قائم ہے کہ ’پہلے کون چیختا ہے‘ امریکہ جو جنگی اخراجات اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے یا ایران کی معیشت جو پہلے ہی دباؤ میں تھی۔