مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال اور ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ایپس کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
عالمی میڈیا کے مطابق یہ ایپس اس تنازع میں غیر متوقع طور پر بڑے مالی فائدے میں رہی ہیں۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کمپنی ’کبلر‘ کا پلیٹ فارم ’میرین ٹریفک‘ اس صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے اداروں میں شامل ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ہزاروں بحری جہازوں کی آمد و رفت
متاثر ہونے پر حکومتوں اور کمپنیوں نے اس کا رُخ کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اپریل میں میرین ٹریفک کے صارفین کی تعداد ساڑھے 85 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں صرف 35 لاکھ تھی۔
اس دوران پلیٹ فارم کی پیڈ سروسز حاصل کرنے والے صارفین میں بھی 11 ہزار کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کمپنی کے شریک بانی فرانسوا کازور کا کہنا ہے کہ فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے لاکھوں نئے صارفین نے ان کی ویب سائٹ کا رُخ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری، تجارتی اور میڈیا اداروں کی جانب سے ڈیٹا کی طلب میں تیزی آئی ہے۔
موجودہ مارکیٹ صورتحال میں کمپنی کی مالیت 3 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان لگائی جا رہی ہے، جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 30 سے 40 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
کمپنی اب انشورنس کے شعبے میں بھی قدم رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ عالمی سطح پر پھیل سکے۔
صرف کبلر ہی نہیں بلکہ لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ نے بھی مارچ کے دوران شپنگ ڈیٹا کے استعمال میں 3 گنا اضافے کی اطلاع دی ہے۔
اسی طرح تیل کی تجارت سے متعلق ایپلی کیشنز کے استعمال میں بھی 75 فیصد تک نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو عالمی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ پلیٹ فارمز اپنا ڈیٹا سیٹلائٹ، بحری ٹریکنگ سسٹم اور بندرگاہوں پر موجود سیکڑوں اہلکاروں کے نیٹ ورک سے حاصل کرتے ہیں۔
اس طریقہ کار سے معلومات کی درستگی کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ توانائی اور تجارت کی عالمی ترسیل پر نظر رکھی جا سکے اور خطرات کا اندازہ ہو۔
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ پلیٹ فارمز جنگی بحری جہازوں کا ڈیٹا ظاہر نہیں کرتے تاکہ حساس معلومات محفوظ رہیں۔
اس کے علاوہ ذاتی حفاظت کی درخواست پر بعض نجی جہازوں کی معلومات بھی چھپائی جا سکتی ہیں، تاہم تجارتی جہازوں کی نگرانی کا عمل آبنائے ہرمز میں مسلسل جاری رہتا ہے۔