اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

طاقت کا جنون، امریکہ کی سافٹ پاور کا قاتل بن گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹرمپ خارجہ پالیسی
نرم طاقت کو تقریباً نظر انداز کردیا گیا

فارن پالیسی میگزین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی خارجہ پالیسی کی نمایاں خصوصیت سخت طاقت ’فوجی قوت اور اقتصادی دباؤ‘ پر حد سے زیادہ انحصار رہی ہے، جبکہ نرم طاقت کو تقریباً نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

اس موضوع پر ایک مضمون میں، اسٹیفن والٹ، جو ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر اور جریدے کے کالم نگار ہیں، کہتے ہیں کہ امریکہ ماضی میں سخت اور نرم طاقت کے امتزاج کے باعث عالمی سطح پر منفرد برتری رکھتا تھا مگر ٹرمپ کے دور میں یہ توازن بری طرح متاثر ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

والٹ کے مطابق ٹرمپ کی پالیسی سخت طاقت پر اندھا اعتماد اور نرم طاقت کے لیے تقریباً مکمل بے اعتنائی کی عکاسی کرتی ہے۔ 

وہ مثال دیتے ہیں کہ اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے جارحانہ محصولات، مختلف ممالک میں فوجی کارروائیاں اور ایران کے خلاف جنگ جیسے اقدامات اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔

ان کے مطابق تشویش ناک پہلو صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ اس

 کے لیے کسی اخلاقی یا قانونی جواز کی کمی ہے۔ 

عموماً بڑی طاقتیں اپنے اقدامات کو نرم الفاظ یا قانونی دلائل کے ذریعے پیش کرتی ہیں، مگر موجودہ امریکی پالیسی میں یہ توازن نظر نہیں آتا۔

والٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے کھلے اظہار کو ترجیح دیتی دکھائی دیتی ہے، جہاں قائل کرنے کے بجائے خوف پیدا کرنے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

465465465 1
امریکہ کا عالمی توازن کمزور ہونے کا خدشہ (فوٹو: الجزیرہ)

اسی کے ساتھ، وہ امریکہ کی نرم طاقت کو مضبوط بنانے والے اداروں اور پالیسیوں کے بتدریج خاتمے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں بین الاقوامی امداد میں کمی، بیرونی نشریاتی اداروں کی بندش کی کوششیں، عالمی تنظیموں سے انخلا اور سفارتی سرگرمیوں میں کمی شامل ہیں۔

داخلی پالیسیوں نے بھی عالمی ساکھ
متاثر کی ہے

ان کے مطابق داخلی سطح پر بھی متنازع امیگریشن پالیسیاں، سیاسی تشدد اور اعلیٰ تعلیمی اداروں پر دباؤ جیسے عوامل امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
والٹ کہتے ہیں کہ امریکی جامعات، جو طویل عرصے سے دنیا بھر کے طلبہ کو اپنی جانب راغب کرتی رہی ہیں، امریکہ کی نرم طاقت کا اہم ستون تھیں، اور ان کا کمزور ہونا طویل المدتی اثرات مرتب کرے گا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ موجودہ امریکی سوچ دنیا کو ’جیتنے والے‘ اور ’ہارنے والے‘ کے زاویے سے دیکھتی ہے، جو تعاون کے بجائے تصادم کو فروغ دیتی ہے، حتیٰ کہ اتحادی ممالک کے ساتھ بھی۔

آخر میں والٹ ماضی کی کامیاب امریکی حکمت عملیوں کا حوالہ دیتے ہیں، جیسے دوسری عالمی جنگ کے بعد تعمیر نو اور اتحاد سازی، جنہوں نے ثابت کیا کہ طاقت اور اخلاقی جواز کا امتزاج ہی دیرپا کامیابی دیتا ہے جبکہ ویتنام، عراق اور افغانستان جیسے تجربات نے صرف فوجی طاقت پر انحصار کی حدود واضح کر دیں۔