کوپر نے مزید کہا کہ وہ ایرانی افواج کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس آپریشن کے دوران امریکی فوجی مقامات سے دور رہیں۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایرانی بندرگاہوں میں داخلے اور اخراج پر عائد امریکی بحری پابندی بدستور نافذ ہے اور اس کے نتائج توقعات سے بڑھ کر رہے ہیں۔
اس سے قبل سینٹکام نے اعلان کیا تھا کہ امریکی پرچم بردار دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔
ایکس پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی افواج اس اہم آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز رانی کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خلیج عرب میں میزائل بردار تباہ کن جہاز موجود ہیں جو آبنائے ہرمز آپریشن کی حمایت کر رہے ہیں، جس کا اعلان گزشتہ اتوار کو صدر ٹرمپ نے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے کیا تھا۔
ٹرمپ کا ایران کو واضح پیغام: نیک نیتی سے معاہدہ یا دوبارہ جنگ
Overseas Post
- آبنائے ہرمز, امریکہ, ایران, ٹرمپ, جنگ