پہلی جنگِ عظیم کے ہولناک اثرات اور معاشی بحران کے بعد 1926 برطانیہ کے لیے غیر معمولی موڑ ثابت ہوا۔
مزید پڑھیں
اُس وقت برطانیہ بھر میں شروع ہونے والی ایک بڑی عام ہڑتال نے پورے نظام اور معیشت کو مفلوج کرکے رکھ دیا تھا، جس نے پھر ملکی تاریخ میں ایک انمٹ نشان چھوڑا۔
جنگ کے بعد برطانیہ کی معاشی مشکلات
پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد برطانوی معیشت شدید ترین دباؤ کا شکار تھی۔
پرانی صنعتیں جیسے ٹیکسٹائل اور کان کنی زوال پذیر تھیں، جبکہ امریکہ جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں سے سخت مقابلہ درپیش تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ کوئلے کی عالمی طلب میں کمی کے باوجود پیداواری لاگت مسلسل بڑھتی جا رہی تھی۔
کرنسی کا بحران اور صنعتی زوال
وزیراعظم سٹینلے بالڈون کی حکومت نے برطانوی پاؤنڈ کی جنگ سے قبل والی قدر بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس فیصلے سے برآمدی اشیا مہنگی ہو گئیں، جس کے نتیجے میں برطانوی صنعتیں اپنی مسابقت کھو بیٹھیں اور عالمی منڈیوں میں امریکی اور یورپی کمپنیوں کے ہاتھوں پس گئیں۔
اجرتوں میں کٹوتی اور سماجی غم و غصہ
معاشی ابتری کے پیشِ نظر حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے اجرتوں میں کٹوتی کا منصوبہ بنایا، تاہم مزدوروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
جولائی 1925 میں ’ریڈ فرائیڈے‘ کے موقع پر حکومت وقتی طور پر پیچھے ہٹی اور عارضی سبسڈی دے کر ایک کمیشن قائم کیا۔
سیموئیل کمیشن کی رپورٹ اور ہڑتال کا آغاز
حکومت کے قائم کردہ ’سیموئیل کمیشن‘ نے اس وقت سفارش کی کہ کان کنوں کی اجرتوں میں 13.5 فیصد کٹوتی کی جائے۔
اس تجویز نے مزدور یونینز کو مشتعل کر دیا، جس کے نتیجے میں 4 مئی 1926 کو برطانیہ کی تاریخ کی سب سے بڑی عام ہڑتال کا باضابطہ آغاز ہوا۔
12 لاکھ کارکنوں کا احتجاج
ہڑتال میں کان کنی، نقل و حمل اور بندرگاہوں کے تقریباً 12 لاکھ کارکنوں نے کام چھوڑ دیا۔
حکومت نے اسے بغاوت اور کمیونسٹ سازش قرار دیا اور اہم شعبوں کو چلانے کے لیے رضاکاروں کا سہارا لیا، جبکہ اخبارات نے بھی حکومت کی بھرپور حمایت کی، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
ہڑتال کا انجام اور قانونی نتائج
8 دن تک جاری رہنے کے بعد 12 مئی 1926 کو ہڑتال کا زور ٹوٹ گیا اور مزدور کام پر لوٹ آئے۔
اگرچہ کان کنوں نے مزید چند ہفتے جدوجہد جاری رکھی، مگر حکومت نے کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا اور 1927 میں ہڑتال مخالف سخت قوانین منظور کر لیے گئے۔
یہ ہڑتال اس تلخ حقیقت کا مظہر تھی کہ جنگ کے بعد کے معاشی حالات نے ریاست اور مزدور طبقے کے درمیان خلیج کو کتنا وسیع کر دیا تھا اور حکومت کی جانب سے سختی نے مستقبل کی صنعتی پالیسیوں کے لیے ایک سخت اور غیر لچکدار لکیر کھینچ دی تھی۔