اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

حیاتیاتی عجوبہ: شمسی توانائی سے خوراک بنانے والے سمندری گھونگے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سبز پتے کی مانند نظر آنے والا شمسی توانائی والے سمندری گھونگے (Elysia chlorotica) کا سمندر میں منظر
یہ ننھے جاندار اپنی خوراک خود پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

قدرت کے کارخانے میں بیشتر جانداروں کی توانائی یا خوراک کا بنیادی ذریعہ سورج ہے۔

مزید پڑھیں

عام طور پر پودے، کائی اور نیلے سبز بیکٹیریا ’فوٹو سنتھیسز‘ کے عمل سے شمسی توانائی کو کیمیائی توانائی میں بدلتے ہیں، تاہم  کچھ نایاب سمندری گھونگے اس روایتی حیاتیاتی اصول کو بدل کر خود کو شمسی توانائی پر چلنے والی مخلوق میں ڈھال چکے ہیں۔

شمسی توانائی سے چلنے والی مخلوق

سائنسدانوں کے مطابق ساکوگلوسان (Sacoglossan) نامی سمندری 

گھونگوں کا گروہ اس حوالے سے غیر معمولی ہے۔

یہ ننھے جاندار اپنی خوراک خود پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ماہرین انہیں ’سولر پاورڈ‘ یا شمسی توانائی پر چلنے والے گھونگے کہتے ہیں۔ 

یہ مخلوق حیوانی اور نباتاتی دونوں خصوصیات کی حامل ہے۔

سبز پتے کی مانند نظر آنے والا شمسی توانائی والے سمندری گھونگے (Elysia chlorotica) کا سمندر میں منظر
ماہرین انہیں ’سولر پاورڈ‘ یا شمسی توانائی پر چلنے والے گھونگے کہتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

خوراک بنانے کرنے کا انوکھا عمل

یہ گھونگے ’کلیپٹوپلاسٹی‘ (Kleptoplasty) نامی عمل کے ذریعے پودوں کی مانند توانائی بناتے ہیں۔

یہ عمل دراصل کائی (Algae) سے کلوروپلاسٹس (Chloroplasts) چرانے کا نام ہے۔ 

یونیورسٹی آف ٹمپا کے پروفیسر مائیکل مڈل بروکس کے مطابق یہ جاندار کائی کھاتے وقت ان کے اندر موجود سبز ذرات چوری کر کے اپنے خلیوں میں محفوظ کر لیتے ہیں۔

قدرت کا ایک حیاتیاتی معمہ

پروفیسر مڈل بروکس مزید بتاتے ہیں کہ یہ عمل سائنسی طور پر انتہائی حیران کن ہے۔

عام طور پر کلوروپلاسٹس کو زندہ رہنے کے لیے کائی کے خلیاتی مرکزے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ گھونگے ان چوری شدہ ذرات کو اپنے جسم میں طویل عرصے تک فعال اور زندہ رکھنے کا راز جانتے ہیں، جو ابھی بھی ایک سائنسی معمہ ہے۔

سبز پتے کی مانند نظر آنے والا شمسی توانائی والے سمندری گھونگے (Elysia chlorotica) کا سمندر میں منظر
یہ مخلوق حیوانی اور نباتاتی دونوں خصوصیات کی حامل ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

الیسیا کلوروٹیکا: ایک چلتی پھرتی نباتات

ماہرین کے مطابق ’الیسیا کلوروٹیکا‘ (Elysia chlorotica) نامی گھونگا اس صلاحیت کی انتہا ہے۔

یہ دیکھنے میں کسی سبز پتے جیسا لگتا ہے اور اپنی غذا کائی سے حاصل کرنے کے بعد مہینوں تک بغیر کچھ کھائے زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ اپنی زندگی کا بیشتر دورانیہ فوٹو سنتھیسز پر گزارتا ہے، اسی لیے اسے ’چلتی پھرتی پتی‘ بھی کہا جاتا ہے۔

زہریلے اثرات سے بچاؤ کا دفاعی نظام

فوٹو سنتھیسز کے دوران بننے والے کیمیائی مادے خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ حیاتیات نکولس بیلونون کے مطابق  یہ گھونگے ’کلیپٹوسوم‘ (Kleptosome) نامی خصوصی خلیاتی خانوں میں کلوروپلاسٹس کو قید رکھتے ہیں۔ 

یہ ڈھانچے توانائی بنانے کے ساتھ زہریلے اثرات کو جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے بھی روکتے ہیں۔

حقیقت یا سائنسی فکشن؟

سبز پتے کی مانند نظر آنے والا شمسی توانائی والے سمندری گھونگے (Elysia chlorotica) کا سمندر میں منظر
یہ کسی حد تک ناول ’دی ہیل میری پروجیکٹ‘ کے پلاٹ سے ملتا جلتا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

یہ گھونگے سائنسی ناولوں کی کہانیوں جیسے لگتے ہیں۔ ناول ’پروجیکٹ ہیل میری‘ میں خلا میں موجود ایسی مخلوق کا ذکر ہے جو سورج کی توانائی کھاتی ہے۔

اگرچہ یہ گھونگے سورج کو نہیں کھا رہے، لیکن ان کی روشنی کو توانائی (خوراک) میں بدلنے کی صلاحیت حیاتیاتی ارتقا کا ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز باب ہے۔

یہ سمندری گھونگے ثابت کرتے ہیں کہ فطرت میں ناممکن کی حدود بہت وسیع ہیں۔ 

سورج کی روشنی کو براہِ راست توانائی میں بدلنے کا ان کا طریقہ نہ صرف بقا کی ایک کامیاب حکمت عملی ہے، بلکہ یہ سائنسی تحقیق کے لیے بھی نئے افق کھولتا ہے کہ کس طرح مختلف انواع اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے غیر معمولی ارتقائی راستے اپناتی ہیں۔