ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے آج منگل کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے عالمی تجارتی اور توانائی کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ’طاقت کا ایک نیا توازن‘ تشکیل پا رہا ہے۔
قالیباف نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال امریکہ کے لیے پائیدار نہیں اور امریکی اقدامات کے باعث آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
معادلهٔ جدید تنگهٔ هرمز در حال تثبیت است. امنیت کشتیرانی و ترانزیت انرژی به دست آمریکا و متحدانش با نقض آتشبس و اعمال محاصره به خطر افتاده است؛ البته شرّشان کم خواهد شد.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) May 5, 2026
خوب میدانیم که استمرار وضع موجود برای آمریکا غیر قابل تحمل است؛ درحالی که ما هنوز حتی شروع هم نکردهایم.
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں بتدریج طاقت کا نیا توازن قائم ہو رہا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی جنگ بندی کی خلاف ورزی اور ناکہ بندی کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل اور بحری راستوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ایران بخوبی جانتا ہے کہ موجودہ صورتحال امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ہے، تاہم ایران نے ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکہ کے نمائندے نے اعلان کیا کہ واشنگٹن خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک نئی قرارداد تیار کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرارداد میں ایران کے خلاف تجارتی جہازوں پر حملوں، بارودی سرنگیں بچھانے اور خطے میں اضافی محصولات عائد کرنے جیسے اقدامات کی بھی مذمت شامل ہوگی۔
امریکی مندوب نے واضح کیا کہ اس قرارداد میں ایران کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا اور اسے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے مقامات ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جا سکے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے۔