تاہم آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کے حوالے سے شدید تضاد سامنے آیا۔
امریکی حکام نے دو امریکی تجارتی جہازوں کے کامیاب گزرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ بحری ڈیٹا کے مطابق صرف محدود تعداد میں جہاز ہی گزر سکے۔
ایران نے ان دعوؤں کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی جہاز آبنائے سے نہیں گزرا اور امریکی بیانات بے بنیاد ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ ان کی پالیسیوں کے خلاف کسی بھی بحری سرگرمی کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، اور خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو طاقت کے ذریعے روکا جائے گا۔
اس صورتحال نے عالمی شپنگ کمپنیوں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے۔
جرمن کمپنی Hapag-Lloyd نے کہا کہ غیر یقینی سکیورٹی حالات کے باعث اس کے جہازوں کا گزرنا فی الحال ممکن نہیں۔
پہلے دن کے دوران کشیدگی میں عملی اضافہ بھی دیکھا گیا۔
امریکی جنگی جہاز خلیج میں داخل ہوئے، جبکہ ایران نے ان کے قریب انتباہی میزائل فائر کئے۔ اسی دوران ایک اماراتی آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ اور ایک جنوبی کوریائی جہاز پر دھماکے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
امریکی حکام کے مطابق فوج کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی براہ راست خطرے کو نشانہ بنائے، جبکہ ایران نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نقل و حرکت کے لیے اس کی اجازت ضروری ہوگی۔
ماہرین کے مطابق پروجیکٹ فریڈم امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اب توجہ فوجی اہداف سے ہٹ کر اقتصادی پہلو، خاص طور پر آبنائے ہرمز، پر مرکوز ہو گئی ہے۔