تیل اور توانائی کے ماہر ہاشم عقل نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تو عالمی معیشت کو شدید ترین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت سے متعلق انہوں نے کہا کہ رسد میں خلل اور آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک بہت بڑی مصیبت ثابت ہونے والی ہے۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اس اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا جس کے نتیجے میں صنعتی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور تمام بنیادی اشیا و خدمات کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں کمی اور سرمایہ کاری سکڑنے سے بے روزگاری میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ طویل مدتی بحران کی صورت میں پوری دنیا ایک ایسی کساد بازاری کی لپیٹ میں آ جائے گی جس سے نکلنا بہت مشکل ہوگا۔
اس وقت امریکہ میں توانائی کی قیمتوں میں 40 فیصد تک ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی بینکوں نے مہنگائی کے پیش نظر شرح سود میں کمی کے فیصلے روک دیے ہیں۔
ہاشم عقل کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس کی جانب سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل پیداوار بڑھانے کا حالیہ فیصلہ ناکافی ہے کیونکہ عالمی منڈی کو اس وقت یومیہ ایک کروڑ 30 لاکھ بیرل کی کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اصل مسئلہ صرف پیداوار کا نہیں بلکہ تیل کی ترسیل کا ہے، کیونکہ فوجی خطرات اور انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کمپنیاں آبنائے ہرمز کے خطرناک راستے سے کام کرنے سے مسلسل گریز کر رہی ہیں۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں، جن میں بصرہ کو عقبہ اور پھر بحیرہ روم سے جوڑنے کا منصوبہ اور سعودی عرب کی جانب سے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی توسیع شامل ہے۔
شپنگ کمپنیوں نے ینبع اور عمان کی بندرگاہوں کو متبادل کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں سے سامان کو زمینی راستوں اور ریلوے کے ذریعے خلیجی ممالک تک پہنچانے کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
ماہرین نے آبنائے ملاکا جیسے دیگر اہم بحری راستوں کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے، جبکہ تیل کے کنووں کی طویل بندش سے پرانی آئل فیلڈز کی پیداواری صلاحیت کے مستقل طور پر ختم ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
اُدھر ایران میں اسٹوریج کی سہولیات بھر جانے کی وجہ سے پیداوار کم کر دی گئی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنا اور دیگر ممالک کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ اس تنظیم کے لیے ایک بڑا ڈھانچہ جاتی چیلنج ہے۔
موجودہ صورتحال اب محض توانائی کا بحران نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان غیر یقینی کی کشمکش بن چکی ہے، جس کے منفی اثرات تیل پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے تمام ممالک پر ہوں گے۔