روس اور یوکرین کے درمیان 4 سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے اثرات اب اپنے جغرافیائی دائرے سے نکل کر افریقہ تک پہنچ چکے ہیں، جہاں ہزاروں نوجوان ایسی جنگ میں جھونک دیے گئے ہیں جس سے ان کا کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ہزاروں افریقی نوجوان روسی فوج کے ساتھ یوکرین میں لڑ رہے ہیں، جن میں سے کئی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے کیونکہ افریقہ جغرافیائی طور پر جنگ سے بہت دور ہے اور بیشتر افریقی ممالک نے اس تنازع میں غیر جانبداری اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں جنگی محاذوں تک کیسے پہنچ رہے ہیں؟
رپورٹ کے مطابق کچھ نوجوان رضاکارانہ طور پر جاتے ہیں، لیکن بڑی تعداد کو جعلی وعدوں کے ذریعے پھنسایا جاتا ہے۔
انہیں روس میں سیکیورٹی، باورچی یا دیگر عام ملازمتوں کا لالچ دیا جاتا ہے مگر وہاں پہنچنے کے بعد انہیں زبردستی فوج میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
متعدد جعلی کمپنیاں، جو بظاہر ٹریول یا ایمپلائمنٹ ایجنسیوں کے طور پر کام کرتی ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو بھرتی کرتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے معاہدے روسی زبان میں ہوتے ہیں، جنہیں افریقی نوجوان سمجھ ہی نہیں پاتے۔
خطرناک وعدے
اشتہارات میں ماہانہ 3 ہزار ڈالر تنخواہ، 18 ہزار ڈالر تک مراعات اور 6 ماہ میں روسی شہریت جیسے پرکشش وعدے کئے جاتے ہیں، جو نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔
کینیا سمیت کم از کم 9 افریقی ممالک نے اس نوعیت کی بھرتیوں کی تصدیق کی ہے۔
صرف کینیا سے تقریباً ایک ہزار نوجوان روس گئے، جن میں سے صرف 30 زندہ واپس آئے۔
- روس کو جنگ میں مزید فوجیوں کی ضرورت
- افریقہ میں شدید بے روزگاری
افریقہ میں روزگار کی کمی اور نوجوان آبادی کی بڑی تعداد انہیں ایسے خطرناک مواقع کی طرف دھکیل رہی ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے غیر ملکیوں کی شرکت تسلیم کی، مگر جبری بھرتی کی تردید کی۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے بھی ایسے الزامات سے لاعلمی ظاہر کی۔
جبکہ یوکرین کے سفیر نے روس پر افریقی نوجوانوں کے استحصال کا الزام عائد کیا۔
کینیا، جنوبی افریقہ، نائجیریا اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے اور بیرونِ ملک سفر پر نگرانی سخت کی ہے۔
کینیا نے روس کے ساتھ مذاکرات کے بعد اپنے شہریوں کی بھرتی روکنے کا دعویٰ کیا، جبکہ جنوبی افریقہ نے بھی اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات شروع کیے۔
ماہرین کے مطابق جب تک بے روزگاری اور معاشی بحران برقرار رہے گا، نوجوان اس طرح کے جال میں پھنستے رہیں گے، اور موجودہ حکومتی اقدامات اس مسئلے کو مکمل طور پر روکنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔