وزیر اعظم شہباز شریف نے آج منگل کے روز متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے ملک کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا احترام اور اس پر سختی سے عمل کرنا ناگزیر ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔
Pakistan strongly condemns the missile and drone attacks on civilian infrastructure in the United Arab Emirates last night. I express full solidarity with His Highness @MohamedBinZayed. Pakistan stands firmly with our Emirati brothers and sisters as well as with the Government of…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 5, 2026
دریں اثنا دنیا کے کئی رہنماؤں نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفارتی حل کی طرف واپس آئے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے، خاص طور پر اس وقت جب حالیہ حملوں نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب آبنائے ہرمز کے قریب امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جبکہ متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا کہ اسے جنگ بندی کے اعلان کے بعد پہلی بار ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔
امارات کے مطابق ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کئے جنہیں خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا گیا۔
ایک حملے میں فجیرہ میں واقع توانائی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 بھارتی شہری زخمی ہو گئے۔ بھارت نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ جہاز رانی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اماراتی حکام نے دبئی اور ابوظبی میں موبائل فونز کے ذریعے شہریوں کو ممکنہ میزائل حملوں سے خبردار کرنے کے لیے ہنگامی الرٹس جاری کئے۔
بعد ازاں وزارتِ دفاع نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کو تباہ کیا تاہم حملوں میں 3 افراد درمیانی نوعیت کے زخمی ہوئے۔
ادھر پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق کے باعث پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔