اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

آبنائے ہرمز میں تصادم: جنگ بندی ٹوٹنے کے قریب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز کشیدگی
جہاز رانی کمپنیوں کا آبنائے ہرمز عبور کرنے سے انکار

8 اپریل سے جاری نازک جنگ بندی اس وقت کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ 

یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

کشیدگی کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے اعلان سے ہوا، جسے بظاہر ایک انسانی ہمدردی کے اقدام کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ خلیج میں پھنسے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے تاہم اس اقدام کے پس منظر میں 13 اپریل سے ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری محاصرہ بھی شامل ہے، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اس کی خودمختاری کا حصہ ہے اور اس نے یہاں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ 

اس مؤقف نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے کہ آیا خطہ مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے یا یہ ایک محدود

 مگر خطرناک طاقت کا کھیل ہے۔

پیر کے روز ہونے والی بحری جھڑپ کے حوالے سے امریکا اور ایران کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا۔ 

امریکی مؤقف کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کامیابی کے ساتھ دو جنگی جہازوں کے ذریعے امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارا، جبکہ ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا گیا اور میزائل و ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا۔

ChatGPT Image 5 مايو 2026، 10 40 57 ص
امریکی و ایرانی بیانات میں شدید تضاد

دوسری جانب ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکا نے شہری کشتیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ 

ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، جس کی امریکا نے تردید کی۔ 

اس تضاد نے صورتحال کو مزید مبہم اور خطرناک بنا دیا ہے۔

خلیج میں
1500 سے زائد
جہاز اور
ہزاروں ملاح
پھنس گئے

ادھر خلیج میں جہاز رانی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
رپورٹس کے مطابق درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں جہاز ساحلوں کے قریب رک گئے ہیں، جبکہ ہزاروں ملاح غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق ہزاروں افراد اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں، جس نے انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔
کشیدگی صرف سمندر تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات زمینی سطح پر بھی نظر آئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے نتیجے میں ایک آئل تنصیب میں آگ لگ گئی اور شہری زخمی ہوئے۔
اس واقعے کے بعد عرب اور عالمی سطح پر شدید مذمت دیکھنے میں آئی ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک توازن پر قائم ہے۔ 

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا جزوی طور پر سمندری راستے کھولنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایران مکمل کنٹرول قائم نہ کر سکے، جبکہ ایران کم لاگت والے حملوں کے ذریعے نفسیاتی اور عسکری دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ChatGPT Image 4 مايو 2026، 10 13 15 م

دوسری جانب ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکا نے شہری کشتیوں کو نشانہ بنایا جس میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ خلیج میں درجنوں جہاز پھنس چکے ہیں، جبکہ ہزاروں ملاح شدید انسانی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پر بھی میزائل اور ڈرون حملے رپورٹ ہوئے، جس کے بعد علاقائی اور عالمی سطح پر مذمت سامنے آئی۔

ماہرین کے مطابق یہ بحران محدود جھڑپوں، جزوی بحری راستوں کے کھلنے، یا مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے جبکہ ایک تیسرا امکان سفارتی حل کا بھی موجود ہے، جہاں دونوں فریق دباؤ کے تحت مذاکرات کی طرف جا سکتے ہیں۔