خلیج میں
1500 سے زائد
جہاز اور
ہزاروں ملاح
پھنس گئے
ادھر خلیج میں جہاز رانی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
رپورٹس کے مطابق درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں جہاز ساحلوں کے قریب رک گئے ہیں، جبکہ ہزاروں ملاح غیر یقینی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق ہزاروں افراد اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں، جس نے انسانی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔
کشیدگی صرف سمندر تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات زمینی سطح پر بھی نظر آئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے نتیجے میں ایک آئل تنصیب میں آگ لگ گئی اور شہری زخمی ہوئے۔
اس واقعے کے بعد عرب اور عالمی سطح پر شدید مذمت دیکھنے میں آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک توازن پر قائم ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا جزوی طور پر سمندری راستے کھولنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایران مکمل کنٹرول قائم نہ کر سکے، جبکہ ایران کم لاگت والے حملوں کے ذریعے نفسیاتی اور عسکری دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکا نے شہری کشتیوں کو نشانہ بنایا جس میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ اس نے ایک امریکی جنگی جہاز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔
صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ خلیج میں درجنوں جہاز پھنس چکے ہیں، جبکہ ہزاروں ملاح شدید انسانی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پر بھی میزائل اور ڈرون حملے رپورٹ ہوئے، جس کے بعد علاقائی اور عالمی سطح پر مذمت سامنے آئی۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران محدود جھڑپوں، جزوی بحری راستوں کے کھلنے، یا مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے جبکہ ایک تیسرا امکان سفارتی حل کا بھی موجود ہے، جہاں دونوں فریق دباؤ کے تحت مذاکرات کی طرف جا سکتے ہیں۔