امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے اعلان کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی گرفت مزید سخت کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ جہاز رانی صرف ایرانی نگرانی اور اجازت سے ہی ممکن ہوگی۔
ایرانی مسلح افواج کی مشترکہ قیادت نے پیر کے روز جاری بیان میں امریکی بحریہ کو خبردار کیا کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ کے قریب آنے یا داخل ہونے سے گریز کرے، بصورت دیگر کسی بھی سطح پر سخت جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی امریکی جارحانہ اقدام سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی اور خلیج میں جہازوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کی مکمل سیکیورٹی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی حکام نے تمام تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو ہدایت دی
ہے کہ وہ ہرمز سے گزرنے سے قبل ایرانی فورسز کے ساتھ لازمی رابطہ کریں۔
اسی تناظر میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا کہ امریکہ کی کسی بھی قسم کی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا‘۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی خطرہ اب بھی انتہائی نازک سطح پر ہے، اور جہازوں کو محتاط رہنے اور عمانی حکام سے رابطہ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ایران عملی طور پر فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز کو بند کیے ہوئے ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔
JMIC Advisory Note 004-26
— UKMTO Operations Centre (@UK_MTO) May 4, 2026
Click here to view the full advisory note⤵️ https://t.co/Kx0bGqHRjP#MaritimeSecurity #MarSec pic.twitter.com/TPQxUAW8gR
ادھر امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔