امریکی افواج کی موجودگی برقرار
خطرہ بدستور موجود قرار
یہ پیچیدگی ایکس پر ہونے والی بحث میں بھی نظر آئی، جہاں دو واضح گروہ سامنے آئے۔
سابق رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین
نے اس اقدام کو جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ ’وقت کو ری سیٹ کرنے‘ کی کوشش قرار دیا تاکہ کانگریس ووٹنگ سے بچا جا سکے۔
انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ کار کرس رولنز کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ کو ’زیادہ سے زیادہ قانونی لچک‘ فراہم کرتا ہے، کیونکہ اس سے بیک وقت 3 مقاصد حاصل ہوتے ہیں: رسمی طور پر جنگ کا خاتمہ میدان میں افواج کی موجودگی برقرار رکھنا کانگریس کی منظوری کے بغیر دوبارہ کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھنا۔
اسی طرح جیکی ہینرچ نے انتظامیہ کا مؤقف نقل کیا کہ کانگریس سے رابطہ جاری ہے اور صدر کے اختیارات کو محدود کرنا بیرون ملک امریکی فوج کو کمزور کر سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر مائیکل اہریزنتی نے نشاندہی کی کہ اصل نکتہ جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ افواج کی ’دوبارہ پوزیشننگ‘ ہے، جو آئندہ مرحلے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی آراء میں شدید تضاد بھی سامنے آیا۔
سیکیورٹی ماہر جم ہینسن نے کہا کہ ٹرمپ نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بڑی مہارت سے مہلت کو ری سیٹ کیا اور فوجی لچک برقرار رکھی۔
اس کے برعکس، محقق ایچ ہنٹس مین نے اسے قانون کی ’محدود تشریح‘ پر مبنی اقدام قرار دیا، جہاں صرف فائرنگ کے نہ ہونے کو جنگ کے خاتمے کی بنیاد بنایا گیا جبکہ افواج کی موجودگی اور بحری محاصرہ جاری ہے۔
اسی تناظر میں، تجزیہ کار ایرک ڈاؤہرٹی نے ٹرمپ کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی رکنے کے بعد نئی منظوری ضروری نہیں اور خطے میں افواج کی موجودگی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بناتی ہے۔
ان تمام ردعمل سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ کا پیغام جنگ کے خاتمے کے اعلان سے زیادہ ایک وسیع آئینی کشمکش کا حصہ ہے، جہاں صدر کے اختیارات اور کانگریس کے کردار پر بحث جاری ہے۔
موجودہ حالات میں، ایران کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے اور امریکی افواج خطے میں تعینات ہیں، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جنگ واقعی ختم ہو چکی ہے بلکہ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، جہاں قانونی اور فوجی حکمت عملیوں کے ذریعے تصادم کو مزید پیچیدہ انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔