اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ کا گولڈن ویزا پروگرام بُری طرح ناکام، تاحال صرف ایک منظوری

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
صدر ٹرمپ کے دستخط اور تصویر والا ٹرمپ کا گولڈن ویزا پروگرام کارڈ اور امریکی جھنڈے کا پس منظر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشہیر کے ساتھ شروع کیا گیا ’گولڈن ویزا پروگرام‘ توقعات کے مطابق نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مزید پڑھیں

فروری 2025 میں شروع کیے گئے اس مہنگے ترین ویزا پروگرام کے لیے اب تک صرف 338 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ صرف ایک شخص کو ویزا جاری کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر تجارت ہوارڈ لوتھنک کے مطابق اس پروگرام کے تحت 2 لاکھ ویزوں کے اجرا سے قومی خزانے میں ایک ٹریلین ڈالر جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ 

انتظامیہ نے ابتدائی طور پر فی ویزا قیمت 50 لاکھ ڈالر رکھی تھی جسے سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کے باعث کم کر کے 10 لاکھ ڈالر کر دیا گیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق 338 درخواست گزاروں میں سے اب تک صرف 59 افراد کے کیسز اگلے مرحلے کے لیے وزارت ہوم لینڈ سیکیورٹی کو بھیجے گئے ہیں۔ 

ان درخواستوں کی انتہائی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ ویزا کے باقاعدہ اجرا سے قبل تمام سیکیورٹی اور قانونی خدشات کو مکمل طور پر دُور کیا جا سکے۔

اس خصوصی گولڈن کارڈ پر صدر ٹرمپ کی تصویر، ان کے دستخط، مجسمہ آزادی اور عقاب کا نشان موجود ہے۔ 

صدر ٹرمپ کے دستخط اور تصویر والا ٹرمپ کا گولڈن ویزا پروگرام کارڈ اور امریکی جھنڈے کا پس منظر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

وزیر تجارت ہوارڈ لوتھنک نے ایوان نمائندگان کی کمیٹی کو بتایا کہ یہ ایک نیا پروگرام ہے جس میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت ترین جانچ پڑتال کا عمل اپنایا گیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت سرمایہ کاروں کو 10 لاکھ ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ 15 ہزار ڈالر کی اضافی پروسیسنگ فیس بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ 

ویزا ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ تمام فیسوں کی ادائیگی کے بعد ویزا کے حصول کی قانونی کارروائی چند ہفتوں کے اندر مکمل کر لی جائے گی۔

رواں سال جنوری میں معروف گلوکارہ نکی مناج نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ انہیں یہ کارڈ مفت مل گیا ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کی تردید کی۔ 

حکام نے وضاحت کی کہ انہیں دیا گیا کارڈ محض ایک یادگاری تحفہ تھا اور اسے قانونی ویزا دستاویز کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔

امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز نے اس پروگرام کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ نظام قابلیت کے بجائے دولت کو ترجیح دیتا ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام موجودہ ویزا قوانین کی خلاف ورزی ہے اور غیر قانونی طور پر صرف امیروں کو نوازنے کے مترادف ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ مستقبل میں 50 لاکھ ڈالر مالیت کا ’پلاٹینم کارڈ‘متعارف کرانے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے جس کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ 

اس کارڈ کے حامل افراد کو ٹیکس میں بڑی چھوٹ ملے گی اور وہ سال میں 270 دن تک امریکہ میں قیام کرنے کے اہل ہوں گے۔