اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

قانونی طور پر آج جنگ ختم، ٹرمپ کا اب پلان کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا جنگ
60 دن کی مدت ختم، مگر ہرمز کھولنے کے نام پر نئی فوجی حکمت عملی زیر غور (فوٹو: العربیہ)

آج جمعہ کے روز جنگ کے 60 دنوں کے بعد کانگریس سے رجوع کئے بغیر جنگ شروع کرنے کا امریکہ کے صدر کو حاصل اختیار جسے ’قانونِ اختیارات جنگ‘ کہا جاتا ہے ختم ہو رہا ہے۔

اس کے تحت وہ جنگ بھی قانونی طور پر ختم ہو رہی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمہ نے گزشتہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی تھی تاہم قانونی اختتام کا مطلب یہ نہیں کہ زمینی حقیقت میں جنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق امریکی اخبار Politico نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک نئی فوجی حکمت عملی پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔

ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم لیک ہونے والی معلومات کے بعد ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ چھڑ گئی ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ آیا 

صدر کو نئی فوجی کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق نئی تجویز میں ایرانی بندرگاہوں پر جاری بحری محاصرہ برقرار رکھنے اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران پر دباؤ بڑھانے کا منصوبہ شامل ہے، تاکہ توانائی کی آزاد ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کی قیمت اسے مزید بھاری پڑے۔

shipping tracking apps 1
نئی فوجی حکمت عملی سے آبنائے ہرمز کھولنے کی کوشش

Politico نے اندازہ لگایا ہے کہ اس محاصرے کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

دوسری جانب، ویب سائٹ Axios کے مطابق دو امریکی حکام نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف نئی ممکنہ فوجی کارروائیوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی ہے۔

ان حکام کے مطابق امریکی مرکزی کمان کے سربراہ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ نے تقریباً 45 منٹ تک صدر کو ان ممکنہ آپریشنز کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ایران کو یومیہ
تقریباً 500 ملین
ڈالر نقصان
کا تخمینہ

اس سے قبل، ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی کارروائیاں قانونی تقاضوں کے تحت ختم ہو چکی ہیں، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
قانون صلاحیاتِ جنگ کے مطابق، جس کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات کو محدود کرنا ہے، ٹرمپ کے پاس آج جمعہ تک یہ مہلت تھی کہ وہ کانگریس سے مزید فوجی کارروائی کے لیے اجازت حاصل کریں یا جنگ کو روک دیں، کیونکہ قانون کے تحت 60 دن کی مدت مکمل ہو چکی ہے تاہم اس میں مزید 30 دن کی توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔
اس قانونی پیچیدگی سے نکلنے کے لیے، قومی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق پروگرام کے سابق ڈائریکٹر نے مشورہ دیا کہ موجودہ آپریشن کو ایک نئے نام کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی کارروائی ’ایپک ریج‘ کو ایک نئی شکل میں جاری رکھا جا سکے۔