اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی؟ ٹرمپ کو آج اہم فوجی بریفنگ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران جنگ
ٹرمپ کا ایرانی ردعمل پر عدم اطمینان، سخت شرائط پر زور

تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں جبکہ غیر یقینی صورتحال پر پوری دنیا کو تشویش ہے، اس عالم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آج جمعرات کو ممکنہ نئے فوجی منصوبے سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل کوپر پیش کریں گے۔ 

یہ معلومات دو باخبر ذرائع نے ویب سائٹ ایکسیوس کو فراہم کی ہیں۔

مزید پڑھیں

ذرائع کے مطابق ٹرمپ سنجیدگی سے وسیع فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ یا تو تہران کے ساتھ مذاکراتی تعطل کو توڑا جا سکے یا جنگ کے خاتمے سے قبل فیصلہ کن ضرب لگائی جا سکے۔

مزید برآں سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف ’مختصر مگر شدید‘ فضائی حملوں کی منصوبہ بندی تیار کی ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ 

بنایا جا سکتا ہے تاکہ تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے اور جوہری پروگرام کے حوالے سے زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جا سکے، جیسا کہ 3 باخبر ذرائع نے بتایا ہے۔

ممکنہ آپشنز

زیر غور منصوبوں میں آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ تجارتی جہاز رانی بحال کی جا سکے۔

زمینی افواج
اور اسپیشل فورسز آپریشن بھی زیر غور

اسی طرح زمینی افواج کی تعیناتی بھی زیر غور ہے، جبکہ ایک خصوصی آپریشن کے ذریعے ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کا امکان بھی شامل ہے۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز ایکسیوس سے گفتگو میں کہا کہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کسی حد تک بمباری سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ اس وقت ناکہ بندی کو دباؤ ڈالنے کا بنیادی ذریعہ سمجھتے ہیں تاہم اگر ایران نے ردعمل نہ دیا تو فوجی کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیتے۔

دوسری جانب، امریکی فوج اس امکان کا جائزہ لے رہی ہے کہ ایران ناکہ بندی کے جواب میں خطے میں موجود امریکی افواج کے خلاف عسکری ردعمل دے سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس بریفنگ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل کی شرکت بھی متوقع ہے۔

یاد رہے کہ ایڈمرل کوپر اس سے قبل بھی 26 فروری 2026 کو ٹرمپ کو اسی نوعیت کی بریفنگ دے چکے ہیں، یعنی ایران اور امریکا، اسرائیل جنگ کے آغاز سے دو روز قبل اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس بریفنگ نے جنگ میں داخل ہونے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔