تازہ کشیدگی
ایسے وقت میں
بڑھی جب تہران،
امریکی جنگ بندی
معاہدے کی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے
دوسری جانب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر فائرنگ ایک امریکی حملے کے جواب میں کی، جس میں ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ اشارہ گزشتہ بدھ کے اس واقعے کی جانب تھا جب امریکا نے ایک ایرانی آئل ٹینکر پر فائرنگ کی تھی، جس کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ تھا کہ وہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر نافذ امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فریق نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا، جبکہ الخمیر، سیریک اور جزیرہ قشم کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے بھی کئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی افواج نے اس کے جواب میں آبنائے ہرمز کے مشرق اور چاہ بہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی جنگی جہازوں پر حملے کئے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا ہو۔
پیر کے روز امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کی 6 چھوٹی کشتیوں کو تباہ کیا اور ایرانی کروز میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا، جب تہران امریکی بحریہ کی آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کی کوشش ناکام بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
تاہم اس بار جھڑپیں انتہائی حساس وقت میں دوبارہ شروع ہوئیں، جب واشنگٹن ایرانی ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
امریکی تجویز میں ایک ابتدائی معاہدے کی بات کی گئی تھی جو لڑائی ختم کر سکتا تھا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات کو فی الحال مؤخر کر کے بعد میں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔