اہم خبریں
8 May, 2026
--:--:--

آخر اچانک ہوا کیا: آبنائے ہرمز پھر میدانِ جنگ بن گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا جنگ بندی
ایران اور امریکا نے خلاف ورزی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا (فوٹو: العربیہ)

8 اپریل سے جاری جنگ بندی کے بعد اب تک کے سب سے خطرناک امتحان میں امریکا اور ایران نے گزشتہ جمعرات کی شام ایک دوسرے پر حملے کئے۔

بعد ازاں تہران نے اعلان کیا کہ صورتحال دوبارہ معمول پر آ گئی ہے، جبکہ واشنگٹن نے بھی واضح کیا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان آخر کیا ہوا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی امیدوں نے فضا کو پُرامید بنا دیا تھا؟۔

مزید پڑھیں

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے دونوں فریقوں کے متضاد بیانات کا جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ ہر جانب نے دوسرے کو جنگ بندی توڑنے اور کشیدگی شروع کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ایک باخبر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی افواج نے امریکی جنگی بحری جہازوں پر میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے حملے کیے اور دوبارہ حملے کی تیاری کر رہی تھیں، جس کے بعد امریکی افواج

 نے دفاعی کارروائی کے طور پر حملے کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حملوں میں آبنائے ہرمز میں ایران کے جنوبی ساحل کے قریب واقع جزیرہ قشم، بندر عباس شہر، خارگ بندرگاہ اور ساحلی دفاعی کروز میزائلوں اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 

یہ تفصیلات امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے نقل کی ہیں۔

ایٹمی ہتھیاروں کی عالمی دوڑ اور مشرق وسطیٰ میں جوہری پروگرام کے اثرات کی عکاسی
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے بعد جوابی وار کیا گیا

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی تصدیق کی کہ ایران نے 3 امریکی بحری تباہ کن جہازوں پر حملے کے لیے میزائل، ڈرونز اور چھوٹی کشتیاں استعمال کیں۔

تازہ کشیدگی
ایسے وقت میں
بڑھی جب تہران،
امریکی جنگ بندی
معاہدے کی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے

دوسری جانب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے امریکی جنگی جہازوں پر فائرنگ ایک امریکی حملے کے جواب میں کی، جس میں ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ اشارہ گزشتہ بدھ کے اس واقعے کی جانب تھا جب امریکا نے ایک ایرانی آئل ٹینکر پر فائرنگ کی تھی، جس کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ تھا کہ وہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر نافذ امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فریق نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا، جبکہ الخمیر، سیریک اور جزیرہ قشم کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملے بھی کئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی افواج نے اس کے جواب میں آبنائے ہرمز کے مشرق اور چاہ بہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی جنگی جہازوں پر حملے کئے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا ہو۔ 

پیر کے روز امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کی 6 چھوٹی کشتیوں کو تباہ کیا اور ایرانی کروز میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا، جب تہران امریکی بحریہ کی آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کی کوشش ناکام بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔

تاہم اس بار جھڑپیں انتہائی حساس وقت میں دوبارہ شروع ہوئیں، جب واشنگٹن ایرانی ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔ 

امریکی تجویز میں ایک ابتدائی معاہدے کی بات کی گئی تھی جو لڑائی ختم کر سکتا تھا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام جیسے اہم معاملات کو فی الحال مؤخر کر کے بعد میں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔