نیتن یاہو
دہائیوں تک
امریکا کو
ایران پر
حملے کیلئے
اکساتے رہے
پومپیو نے ان خدشات کو ’کمزور ذہنیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی سفارتی، معاشی اور عسکری برتری کی بدولت کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بعد میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور 2020 میں قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا تاہم بعد میں COVID-19 کی وبا نے تمام عالمی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔
اہم امریکی اداروں کی محتاط پالیسی صرف افراد کی ذاتی رائے پر مبنی نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے کئی تحقیقی مطالعات اور سیکیورٹی جائزے موجود تھے۔
ان میں سب سے اہم 2012 کی ایک تحقیق تھی، جس کا عنوان تھا ’ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ‘۔
اس تحقیق کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس پر 32 سابق امریکی حکام اور قومی سلامتی کے ماہرین کے دستخط تھے۔
اس تحقیق کے مطابق اگر امریکا یا اسرائیل ایران پر حملہ کرتے بھی ہیں تو اس سے ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہو گا بلکہ زیادہ سے زیادہ چند برس کے لیے تاخیر کا شکار ہوگا۔
تحقیق کے مطابق امریکی حملے ایران کے جوہری پروگرام کو تقریباً چار سال جبکہ اسرائیلی حملے صرف دو سال تک پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔
رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ ایران کے جوہری مراکز مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے اور بعض زمین کے اندر انتہائی گہرائی میں قائم ہیں جس کی مکمل تباہی کی ضمانت دینا مشکل ہے۔
مطالعے نے خبردار کیا کہ جنگ کا آغاز محدود مقاصد سے ہو سکتا ہے مگر وقت کے ساتھ یہ ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے لیے امریکا کو زمینی افواج بھیجنے اور شاید ایران کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنے تک جانا پڑ سکتا ہے۔
امریکی مطالعات
نے خبردار کیا
کہ ایران جنگ کی
صورت میں ہرمز بند،
تیل مہنگا اور خطے کو وسیع جنگ میں
دھکیل سکتا ہے
امریکی فوجی ماہر مائیکل اوہینلن کے مطابق ایران جیسے ملک پر قبضے کے لیے تقریباً دس لاکھ امریکی فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، کیونکہ ایران کا رقبہ تقریباً 18 لاکھ مربع کلومیٹر اور آبادی 9 کروڑ سے زائد ہے۔
تحقیق میں ایران کے ممکنہ ردعمل کو بھی انتہائی خطرناک قرار دیا گیا۔
اس کے مطابق ایران اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملے، خلیجی ممالک میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے، اور آبنائے ہرمز میں بحری راستے بند کرنے جیسے اقدامات کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران بارودی سرنگوں، تیز رفتار کشتیوں اور بحری میزائلوں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معطل کر سکتا ہے، جس سے عالمی تیل منڈی شدید متاثر ہوگی۔
یہی خدشات بعد میں حقیقت بنے جب جنگ کے دوران تیل کی قیمتیں 60 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔
تحقیق نے یہ بھی امکان ظاہر کیا کہ ایران اپنے علاقائی اتحادیوں جیسے حزب اللہ اور عراق میں مسلح گروہوں کو متحرک کر کے جنگ کا دائرہ وسیع کر سکتا ہے۔
مطالعے کے مطابق سب سے بڑا خطرہ ’کشیدگی کا نہ رکنے والا سلسلہ‘ ہے، کیونکہ ہر ایرانی ردعمل امریکی یا اسرائیلی ردعمل کو جنم دے گا اور پھر اس کے جواب میں ایران مزید شدت اختیار کرے گا، یوں ایک ایسا دائرہ شروع ہو سکتا ہے جسے کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔
تحقیق نے خبردار کیا کہ ایران پر حملہ الٹا نتائج پیدا کر سکتا ہے کیونکہ اس سے تہران اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ جوہری ہتھیار ہی مستقبل کے حملوں سے بچاؤ کی واحد ضمانت ہیں۔
اس کے نتیجے میں ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون ختم کر سکتا ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے بھی نکل سکتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اگر امریکا نے اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر ایران پر حملہ کیا تو اس سے عالمی سطح پر امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ تمام اندازے اور خدشات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کیوں کئی دہائیوں تک امریکی صدور ایران کے خلاف براہِ راست جنگ سے گریز کرتے رہے۔
ان کے نزدیک فضائی حملے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل ختم نہیں کر سکتے تھے، جبکہ جنگ پورے خطے کو ایک وسیع اور طویل تنازع میں دھکیل سکتی تھی۔
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ان خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور حیرت کا اظہار کیا کہ امریکا نے تقریباً نصف صدی تک ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کیوں نہیں کی۔