عالمی منڈیوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ممکنہ معاہدے کی خبروں پر مثبت ردعمل دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس، سونے کی قیمتوں اور کرنسی کے رجحانات میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔
پاکستان کا کردار
پاکستان جو اس تنازع کا ثالث ہے، کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران ایک صفحے پر مبنی مفاہمتی یادداشت پر معاہدے کے قریب ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی گراوٹ
حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں گزشتہ 2 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔
برینٹ خام تیل 8.6 ڈالر (7.83 فیصد) گر کر 101.27 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس کروڈ بھی 7.19 ڈالر (7.03 فیصد) کی کمی سے 95.08 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
سونے اور قیمتی دھاتوں کی بلند پرواز
مارکیٹوں پر مثبت اثرات کے طور پر سونے کی قیمتوں میں بھی 3 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 4691.80 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ افراط زر کے خدشات میں کمی اور شرح سود میں ممکنہ کٹوتی کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف مائل کیا ہے، جس سے مارکیٹ میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔
ڈالر کی گراوٹ اور عالمی کرنسیوں پر اثرات
ڈالر انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی، جو 28 فروری کے بعد اس کی نچلی ترین سطح ہے۔
اس کے برعکس یورو اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جاپانی ین کے مستحکم ہونے سے بھی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک محتاط لیکن پرامید رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔
ایرانی ریال کی قدر میں بہتری
جنگ کے خاتمے کی توقعات کے بعد ایران کی اوپن مارکیٹ میں ریال کی قدر میں بہتری آئی ہے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قیمت 182,350 تومان سے بہتر ہو کر 175,210 تومان (تقریباً 1.75 ملین ریال فی ڈالر) پر آ گئی ہے۔
اسٹاک مارکیٹس اور مصنوعی ذہانت کا اثر
وال اسٹریٹ کے اہم انڈیکس، جن میں ایس اینڈ پی 500 (1.45 فیصد) اور نیس ڈیک (2.01 فیصد) شامل ہیں، میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
اُدھر یورپی انڈیکس اسٹوکس 600 بھی 2.2 فیصد بڑھ کر 623.25 پوائنٹس پر بند ہوا ہے۔ یہ تیزی مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کا نتیجہ ہے۔
خلیجی اور ایشیائی منڈیوں کا ملا جلا ردعمل
خلیجی منڈیوں میں دبئی (3 فیصد) اور ابوظبی (0.9 فیصد) کے انڈیکس اوپر گئے ہیں، تاہم سعودی انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
ایشیا میں جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 7 فیصد کے اضافے کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، جس کی بڑی وجہ سام سنگ کے حصص میں تیزی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں کا یہ ردعمل اس بات کا غماز ہے کہ سرمایہ کار جنگی کشیدگی کے خاتمے کو معاشی بحالی کی کنجی سمجھتے ہیں۔
اگرچہ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے، لیکن توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور سپلائی چین کے معمول پر آنے میں وقت درکار ہوگا۔ فی الحال عالمی سطح پر رسک لینے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔