ایران میں انٹرنیٹ کی بندش نے معاشی سرگرمیوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں جنگ کے اثرات اور کمزور معاشی ڈھانچے نے مل کر سنگین بحران پیدا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کی معطلی سے ایران میں پیداوار اور تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ہزاروں کمپنیاں ڈیجیٹل استحکام کی عدم موجودگی میں اپنے روزمرہ کے معاملات چلانے کے لیے غیر یقینی صورتحال اور سخت ترین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔
تہران کے مضافات میں واقع ایک فوڈ فیکٹری کے مالک صدر الدین
نیاورانی 30 سالہ تجربے کے باوجود موجودہ حالات سے شدید پریشان ہیں۔
انٹرنیٹ کی بندش سے اُن کی بیرونی مارکیٹنگ اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والے تمام تجارتی سودے اور معاہدے مکمل طور پر رک چکے ہیں۔
جنگ سے قبل مستحکم انٹرنیٹ کی بدولت فیکٹری کی بین الاقوامی فروخت میں 40 فیصد اضافہ ہوا تھا، مگر اب حالات یکسر مختلف ہیں۔
نیاورانی مالی دباؤ کے باوجود اپنے تجربہ کار عملے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ برسوں کی محنت سے حاصل مہارت ضائع نہ ہو۔
ایران چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش سے روزانہ 40 ملین ڈالر کا براہ راست نقصان ہو رہا ہے۔
اگر بالواسطہ اثرات کو بھی شامل کیا جائے تو یہ مجموعی خسارہ روزانہ 80 ملین ڈالر تک پہنچ جاتا ہے، جو معیشت پر بڑا بوجھ ہے۔
ماہر اقتصادیات پیمان مولوی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت موجودہ دور میں معاشی سرگرمیوں کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔
انٹرنیٹ کی عدم موجودگی سے نہ صرف روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں بلکہ پہلے سے مشکلات کا شکار مارکیٹوں کی کارکردگی بھی مزید گر گئی ہے۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے، جو گاہکوں تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
آمدنی میں کمی اور اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ان کمپنیوں کے مارکیٹ سے باہر ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے اس فیصلے کو سیکیورٹی ضروریات اور جنگ کے دوران سائبر خطرات سے جوڑا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اہم بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ حملوں سے بچانے اور نیٹ ورکس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد کرنا ناگزیر تھا۔
حکومت نے متبادل کے طور پر اندرونی نیٹ ورک اور ’انٹرنیٹ پرو‘ سروس متعارف کرائی ہے، جو صرف صنعتی، طبی اور تعلیمی اداروں تک محدود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محدود رسائی ان تمام معاشی شعبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر انٹرنیٹ کی بندش برقرار رہی تو سپلائی چین اور ٹرانسپورٹ کا نظام مزید مفلوج ہو جائے گا۔
اس صورتحال سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے اور کئی کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹنے یا بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہوں گی۔
ڈیجیٹل معیشت میں گراوٹ سے عام شہریوں کی روزانہ آمدن اور روزگار کے مواقع بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
انٹرنیٹ پر منحصر چھوٹے کاروبار بند ہونے سے سماجی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جو پہلے سے پیچیدہ معاشی حالات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
ایران کا معاشی مستقبل اب انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور سیکیورٹی و کاروباری ضروریات کے درمیان توازن پیدا کرنے پر منحصر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حساس مرحلے پر حکومتی فیصلے داخلی اور خارجی سطح پر ملکی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔