ایک تازہ سائنسی تحقیق نے حیران کن انکشاف کیا ہے کہ شہروں میں رہنے والے پرندے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی موجودگی میں زیادہ خوف اور احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کے قریب آنے پر مردوں کی نسبت جلد اُڑ جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں
’شہری پرندوں کا خوف‘ پر جرنل ’پیپل اینڈ نیچر‘ میں شائع ہونے والی اس جامع تحقیق میں 5 یورپی ممالک کے شہروں میں پائے جانے والے پرندوں کی 37 مختلف اقسام کا مشاہدہ کیا گیا ہے تاکہ انسانی صنف کی بنیاد پر ان کے ردعمل کا سائنسی جائزہ لیا جا سکے۔
ماہرین نے اس مطالعے کے لیے ’فلائٹ انیشی ایشن ڈسٹنس‘ نامی پیمانہ استعمال کیا ہے، جس سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی پرندہ
کسی انسان کے قریب آنے پر کتنے فاصلے سے اپنی جگہ چھوڑ کر اُڑنے یا بھاگنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اس مطالعے میں چیک جمہوریہ، فرانس، جرمنی، پولینڈ اور اسپین کے شہری علاقوں میں موجود کبوتروں، کوؤں، چڑیوں اور زرزور جیسے پرندوں کے طرز عمل کا مختلف سبزہ زاروں اور پارکوں میں یکساں لباس اور حالات کے تحت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
اپریل سے جولائی 2023 کے درمیان کیے گئے 2500 سے زائد فیلڈ مشاہدات کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ مرد حضرات خواتین کے مقابلے میں اوسطاً ایک میٹر زیادہ قریب پہنچنے تک پرندوں کو اپنی جگہ پر ساکت رکھنے میں کامیاب رہے جو کہ اہم ہے۔
پراگ کی یونیورسٹی آف لائف سائنسز سے وابستہ محققہ یانینا بینڈیٹی نے ان نتائج پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ پرندے شہری ماحول میں انسانوں کو محض غیر جانبدار مبصر کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ فرق محسوس کرتے ہیں۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن کے پروفیسر جان مارزلوف نے ان نتائج کو ابتدائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پرندے انسانوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن جنس کی بنیاد پر ان کے مختلف ردعمل کی سائنسی وجوہات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔
سائنسدانوں نے اس رویے کی ممکنہ وجوہات میں انسانی جسم کی بو، چلنے کے انداز یا جسمانی ساخت میں فرق کو شامل کیا ہے، جبکہ خواتین میں مخصوص ایام کے دوران ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں بھی پرندوں کے لیے ایک اہم اشارہ ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے جس میں انسانی حرکت، خوشبو اور دیگر جسمانی خصوصیات کا الگ الگ تجربہ کر کے پرندوں کے اس مخصوص خوف کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔