اہم خبریں
8 May, 2026
--:--:--

انسانی المیوں پر بے حسی: کیا ہم دُکھ اور صدمے کے عادی ہو چکے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
انسانی المیوں پر بے حسی اور سوشل میڈیا کے جذباتی اثرات کی عکاسی
ہمارے اعمال کو ٹیلی ویژن، فون اسکرین اور سوشل میڈیا سے بالاتر ہونا چاہیے (فوٹو: الجزیرہ)

آج کی دنیا میں معلومات کی بھرمار اور ڈیجیٹل رابطوں کے اس دور میں ہم خبروں اور المیوں کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

ایک افسوسناک خبر پڑھ کر تھوڑی دیر غمزدہ ہونا اور پھر فوراً اپنی روزمرہ کی زندگی اور تفریحی سرگرمیوں میں مصروف ہو جانا ہمارے معاشرتی رویے کا حصہ بن چکا ہے۔

انسانوں میں پیدا ہونے والی یہ بے حسی محض ایک جذباتی ردعمل نہیں بلکہ اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ 

مسلسل آنے والی المناک خبریں انسانی ذہن کو ایک قسم کے دفاعی 

میکانزم پر مجبور کرتی ہیں تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے بچ کر اپنی بقا کو ممکن بنا سکے۔

ماہرین کے مطابق ذاتی مصروفیات اور معاشی دباؤ بھی اس بے حسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 

جب کوئی فرد قرضوں، نوکری کے خوف اور دیگر سماجی ذمہ داریوں میں گھرا ہو تو وہ اپنی بقا کو ترجیح دینے لگتا ہے، جس سے اس کی توجہ عالمی المیوں سے ہٹ کر صرف اپنی ذات تک محدود ہو جاتی ہے۔

سوشل میڈیا کا کردار اور ہمارا شرکت کا وہم

سوشل میڈیا نے دراصل ہمیں شرکت کے وہم میں مبتلا کر دیا ہے۔

ذاتی مصروفیات اور معاشی دباؤ بھی انسانی بے حسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

کسی المناک واقعے پر ایک ’لائک‘ یا کمنٹ کر کے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا فرض پورا کر لیا ہے۔ یہ عمل ہمیں حقیقی اور ٹھوس اقدامات سے دُور کر کے صرف ایک مجازی تسکین تک محدود کر دیتا ہے۔
اسی طرح یہ تاثر بھی ہے کہ عام آدمی کا عالمی حالات یا سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونا ناممکن ہے۔
جب لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی کوششیں بے سود ہیں تو ان کا جوش اور ہمت رفتہ رفتہ ختم ہونے لگتی ہے، جس سے معاشرتی مایوسی جنم لیتی ہے۔

تعطل سے عمل کی جانب سفر

حقیقی تبدیلی تب آتی ہے جب لوگوں کو اپنے عمل کا ٹھوس اثر نظر آنے لگے۔

مثال کے طور پر بائیکاٹ کے ذریعے کسی کمپنی کو نقصان پہنچنا یا امدادی رقوم کا حقداروں تک پہنچنا یہ ثابت کرتا ہے کہ عوامی دباؤ اور اجتماعی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس کے لیے ہمدردی کو محض احساس سے نکال کر ایک عزم میں بدلنا ضروری ہے۔ 

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص سیاسی کارکن بن جائے، بلکہ چھوٹی مگر مستقل کوششیں اہمیت رکھتی ہیں۔ ماہانہ معمولی عطیہ یا کسی فلاحی ادارے کی حمایت، درحقیقت انسانیت کی بقا کے لیے اہم قدم ہے۔

علم اور شعور کی طاقت

ذاتی آگہی اور مطالعہ انسان کو حق کے راستے پر قائم رکھتا ہے۔

قرآن پاک میں بھی علم والوں اور لاعلموں کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ اپنے علم میں اضافہ کرنا بھی ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو جذباتی طور پر مستحکم رکھتا ہے اور اسے بے حسی کے اندھیروں سے نکالتا ہے۔

روحانی تعلق کی بحالی اس تمام صورتحال کا سب سے اہم پہلو ہے، کیونکہ  ایمان انسان کی ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دیتا ہے۔

یہ احساس کہ ہم محض تماشائی نہیں بلکہ اپنے مؤقف اور خاموشی کے لیے جوابدہ ہیں، انسان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے اور اسے بے حسی سے باہر نکالتا ہے۔

عین ممکن ہے کہ ہم دنیا کے سیاسی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی فوری قدرت نہ رکھتے ہوں، لیکن ہم اس بات کو ضرور مسترد کر سکتے ہیں کہ المیوں کو ایک معمول کا منظر سمجھ لیا جائے۔ 

تبدیلی کا آغاز انسان کے اپنے اندر سے ہوتا ہے  اور یہی وہ پہلا قدم ہے جو اجتماعی حالات کو بدلنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔