باخبر سعودی ذریعے نے کہا ہے کہ مملکت نے اپنی فضائی حدود کو کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی کی حمایت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
یہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے بعد 8 اپریل سے اب تک کی سب سے خطرناک خلاف ورزی میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
ذرائع نے جمعہ کے روز العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریاض کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی ذریعے نے کہا کہ کچھ فریق مشکوک مقاصد کے تحت سعودی عرب کے مؤقف کے بارے میں گمراہ کن تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ ایرانی افواج نے 3 امریکی جنگی
بحری جہازوں کی جانب فائرنگ کی۔
دوسری جانب ایرانی افواج نے امریکا پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے ایک ایرانی آئل ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم، بندر خمیر اور سیریک کے شہری علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں کے باوجود تہران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم اب بھی ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ان حملوں سے قبل امریکا نے ایک ابتدائی تجویز پیش کی تھی جس کے تحت تنازعے کو باضابطہ طور پر ختم کیا جا سکتا تھا تاہم ابتدائی مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام کی معطلی سے متعلق امریکی مطالبات شامل نہیں تھے، جبکہ ان امور پر بعد میں بات چیت ہونا تھی، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
دوسری جانب تہران نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس نے مجوزہ منصوبے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور وہ اس کا جائزہ لے رہا ہے۔