اگر آپ اپنا موبائل فون یا کمپیوٹر تبدیل کرنے یا مرمت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اب آپ کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقم ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔
اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات صرف توانائی، ایندھن اور ہوا بازی جیسے براہِ راست متاثرہ شعبوں تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ خاموشی سے دیگر صنعتوں تک بھی پھیل گئے ہیں، خاص طور پر الیکٹرانکس، چپس اور سیمی کنڈکٹرز کی صنعت تک، جو جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ بحران اب عالمی ٹیکنالوجی سیکٹر کے مرکز تک پہنچ چکا ہے، جہاں یہ توانائی اور شپنگ کے بحران سے بڑھ کر چپس اور پرنٹڈ سرکٹ بورڈز PCB کی سپلائی چین پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔
یہی اجزاء موبائل فونز، کمپیوٹرز، گاڑیوں، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے سرورز کی بنیاد ہیں۔
ٹیکنالوجی کا شعبہ، اپنی جدید حیثیت کے باوجود، اب بھی مخصوص
خام مال، شپنگ روٹس اور پیٹروکیمیکل مراکز پر انحصار کرتا ہے، جو جغرافیائی طور پر محدود ہیں۔
اسی وجہ سے خلیج میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر لاگت بڑھانے اور پیداوار سست کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اجزا میں پرنٹڈ سرکٹ بورڈز شامل ہیں، جنہیں PCB کہا جاتا ہے۔
یہ دراصل الیکٹرانک ڈیوائسز کا اعصابی نظام ہوتے ہیں، کیونکہ یہی مختلف چپس اور پرزوں کو آپس میں جوڑتے ہیں اور برقی سگنلز کو منتقل کرتے ہیں۔
بحران نے اس وقت شدت اختیار کی جب سعودی عرب کے صنعتی شہر الجبیل میں واقع پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اعلیٰ معیار کے ریزن Resin کی پیداوار متاثر ہوئی۔
یہ ریزن PCB کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
PCB قیمتوں میں
40٪ تک اضافہ
رپورٹس کے مطابق سابک کمپنی جو اس مادے کی عالمی سپلائی کا تقریباً 70 فیصد فراہم کرتی ہے، اپنی پیداوار بحال نہیں کر سکی، جس سے عالمی سطح پر سپلائی محدود ہو گئی جبکہ دوسری جانب مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب پہلے ہی اس صنعت پر دباؤ ڈال رہی تھی۔
نتیجتاً، اپریل کے دوران PCB کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا جبکہ کاپر ’تانبہ‘ کی قیمتیں سال کے آغاز سے 30 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔
چونکہ تانبہ PCB کی لاگت کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہوتا ہے، اس لیے قیمتوں میں یہ اضافہ مجموعی لاگت کو مزید بڑھا رہا ہے۔
اسی دوران ایپوکسی ریزن جیسے کیمیکلز کی فراہمی میں تاخیر بھی شدید ہو گئی ہے، جہاں پہلے یہ مواد 3 ہفتوں میں دستیاب ہوتا تھا، اب 15 ہفتوں تک کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے، جو سپلائی چین میں شدید رکاوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بحران ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے چپس کی مانگ تاریخی سطح پر ہے۔
بڑی ٹیک کمپنیاں قیمتوں میں اضافے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہیں، کیونکہ انہیں مستقبل میں طلب کے مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ 2020 سے جاری سپلائی اور طلب کے عدم توازن کو مزید شدت دے رہا ہے۔
جنگ نے شپنگ، لاجسٹکس اور توانائی کے اخراجات بڑھا کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی لاگت میں اضافہ 3 بنیادی عوامل سے ہو رہا ہے:
توانائی، خام مال اور شپنگ۔
سیمی کنڈکٹر انڈسٹری بجلی کی بڑی صارف ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پیداوار کی لاگت بڑھا دیتا ہے۔
اس کے علاوہ، نیون، پیلیڈیم اور دیگر نایاب مواد بھی متاثر ہوئے ہیں، جو پہلے ہی یوکرین جنگ کے باعث کم ہو چکے تھے۔ اب نئی جنگ نے ان کی دستیابی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ایشیا، خاص طور پر جنوبی کوریا، تائیوان اور چین، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ یہ ممالک چپس کی پیداوار کے بڑے مراکز ہیں اور توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران صرف قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی پیداوار کے نقشے کو بھی بدل سکتا ہے، جہاں کمپنیاں اب اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانے اور پیداوار کو امریکا، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا منتقل کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بحران کے اثرات فوری طور پر صارفین تک نہیں پہنچیں گے مگر آہستہ آہستہ موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، رعایتیں کم ہوں گی، اور کچھ مصنوعات کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔