شاید گوگل کمپنی نے اپنی شروعات ایک سرچ انجن کے طور پر کی تھی مگر آج یہ انٹرنیٹ صارفین کے لیے ضروری خدمات کی ایک وسیع سلطنت بن چکی ہے۔
ان میں يوتيوب، جيميل اور انڈرائیڈ شامل ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا موبائل نظام ہے۔
ان تمام خدمات کی ملکیت دراصل کمپنی کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کے پاس ہے اور انہی پلیٹ فارمز کے ذریعے جمع ہونے والا تمام ڈیٹا اسی کے سرورز میں محفوظ ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکی حکومت نے بعض اوقات کمپنی کو تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
مزید پڑھیں
گوگل کون سا ڈیٹا جمع کرتا ہے؟
گوگل اپنی مختلف خدمات کے ذریعے کئی اقسام کا ڈیٹا جمع کرتا ہے، جسے 3 بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
- سروس ڈیٹا: جیسے آپ کی سرچ ہسٹری، ای میل استعمال اور ویڈیوز دیکھنے کا ریکارڈ
- ذاتی معلومات: نام، زبان، مقام، ادائیگی کی معلومات وغیرہ
- وسیع ڈیٹا: جو اینڈرائیڈ، گوگل كروم اور دیگر ایپس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے
ڈیٹا کس طرح استعمال ہوتا ہے؟
گوگل کے متنوع پلیٹ فارمز کی وجہ سے صارف کی روزمرہ زندگی سے متعلق بڑی مقدار میں معلومات جمع ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
- اینڈرائیڈ کے ذریعے آپ کے مقامات اور رابطوں کا اندازہ
- جیمیل کے ذریعے آپ کے رابطوں کی نوعیت
- یوٹیوب کے ذریعے آپ کی ویڈیو دیکھنے کی عادات
- کروم اور سرچ انجن کے ذریعے آپ کی ویب براؤزنگ سرگرمیاں
کیا آپ اپنا ڈیٹا دیکھ سکتے ہیں؟
جی ہاں، گوگل صارفین کو اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے ’ڈیٹا اور پرائیویسی‘ سیکشن میں جا کر اپنی معلومات دیکھنے، ڈاؤن لوڈ کرنے اور حذف کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
گوگل یہ ڈیٹا کیوں جمع کرتا ہے؟
گوگل دراصل ایک بڑی اشتہاری کمپنی بھی ہے۔
جتنا زیادہ ڈیٹا اس کے پاس ہوگا، وہ اتنے ہی بہتر انداز میں صارفین کے لیے موزوں اشتہارات دکھا سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کے اشتہارات کو مارکیٹنگ کے ماہرین انتہائی مؤثر سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ سرچ انجن، اینڈرائیڈ، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر صارفین تک براہِ راست پہنچتے ہیں۔
یہی ماڈل گوگل کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے اور اسی وجہ سے اس پر مسابقتی قوانین کے حوالے سے قانونی دباؤ بھی بڑھتا رہتا ہے۔