ٹیکنالوجی کمپنیوں میں حالیہ عرصے کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) پر انحصار تیزی سے بڑھا ہے۔
مزید پڑھیں
انسانی طرزِ عمل کی نقل کرنے والے اے آئی ایجنٹس اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی برق رفتار ترقی نے کمپنیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ انسانی ملازمین کے بجائے ان ٹیکنالوجیز کو ترجیح دیں۔
اسی سوچ نے حالیہ مہینوں میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کی لہر کو جنم دیا ہے۔
یہ لہر چھوٹی اسٹارٹ اپ کمپنیوں سے لے کر ٹیکنالوجی کی بڑی بڑی
دیوہیکل کمپنیوں تک پھیل چکی ہے۔
اوریکل (Oracle) جیسی کمپنیوں نے 30 ہزار ملازمین یا اپنی کل افرادی قوت کا 18 فیصد فارغ کر کے اے آئی کو ترجیح دی ہے، جبکہ میٹا، مائیکروسافٹ اور دیگر کمپنیاں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔
تاہم یہ کمپنیاں جہاں اپنے اخراجات کم کرنے کے دعوے کر رہی ہیں، وہیں ایک ایسا پہلو بھی ہے جسے بڑی کمپنیاں اور رپورٹس مسلسل نظر انداز کر رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اے آئی ایجنٹس کو اپنانا بعض اوقات انسانی عملے کو ملازمت پر رکھنے سے بھی زیادہ مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
ٹوکنز کی معیشت: لامحدود اخراجات
اے آئی کمپنیاں اپنی خدمات کے لیے ماہانہ سبسکرپشن فیس (مثلاً چیٹ جی پی ٹی کے پرو ورژن کے لیے 20 ڈالر) تو لیتی ہیں، لیکن تجارتی استعمال کے وقت ایک اور ’پوشیدہ قیمت‘ سامنے آتی ہے جسے ’ٹوکنز‘ (Tokens) کہا جاتا ہے۔
ٹوکنز کو یوں سمجھیں جیسے کسی تفریحی پارک میں گیم کھیلنے کے لیے درکار سکے۔ اگر آپ کو کھیل جاری رکھنا ہے تو آپ کو مسلسل مزید سکے ڈالنے ہوں گے۔
اے آئی ماڈلز میں بھی ہر کمانڈ اور ہر عمل کے بدلے میں ٹوکنز خرچ ہوتے ہیں۔
کوین ٹیلی گراف (Cointelegraph) کی رپورٹ کے مطابق بعض صورتوں میں اے آئی ماڈلز کے استعمال پر آنے والی لاگت انسانی ملازمین کی سالانہ تنخواہ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔
معروف سرمایہ کار مارک کیوبن کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز کے ذریعے کام کروانا، اسی کام کو ایک انسان سے کروانے کی نسبت دگنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔
مثال کے طور پرکلاڈ (Claude) ماڈل کے جدید ورژن ’اوپس 4.7‘ کے بارے میں صارفین کی شکایات ہیں کہ یہ ٹوکنز کا بہت زیادہ استعمال کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ماڈل کو اگر اس کی کل صلاحیت کے محض 10 سے 20 فیصد پر بھی چلایا جائے تو روزانہ کا خرچ 300 ڈالر تک پہنچ جاتا ہے، جو سالانہ بنیادوں پر ایک تجربہ کار سافٹ ویئر انجینئر کی تنخواہ (تقریباً ایک لاکھ ڈالر) سے بھی زیادہ ہے۔
انسانی نظرثانی ناگزیر
مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کے باوجود اس کے نتائج اب بھی انسانی نگرانی کے محتاج ہیں۔
فوربز (Forbes) کی رپورٹ کے مطابق کمپنیاں علمی دیوالیہ پن (Cognitive Insolvency) جیسے خطرات سے بچنے کے لیے انسانوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں تاکہ اے آئی کی غلطیوں (Hallucinations) کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
یعنی کمپنیوں کو ہزاروں ڈالر ٹوکنز پر خرچ کرنے کے بعد اب بھی ایک ماہر انسان کو بطور ’مبصر‘ تعینات کرنا پڑتا ہے جو اے آئی کے کام کی تصدیق کر سکے۔
آٹومیشن بمقابلہ اے آئی ایجنٹس
اوریکل کی ایک رپورٹ کے مطابق اکثر کمپنیاں جسے جدید اے آئی ایجنٹ کہہ کر فروخت کر رہی ہیں، درحقیقت وہ صرف جدید آٹومیشن کے ٹولز ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کا معمولی استعمال کیا گیا ہے۔
یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا کمپنی کو واقعی اے آئی ایجنٹ کی ضرورت ہے یا صرف آٹومیشن کے سادہ فریم ورک کی، کیونکہ اے آئی ایجنٹ کو چلانا کہیں زیادہ مہنگا ہے۔
کیا اےآئی منافع بخش ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اوپن اے آئی (OpenAI) جیسی بڑی کمپنی بھی اب تک منافع بخش نہیں ہو سکی ہے۔
وائرڈ (Wired) میگزین کے مطابق سبسکرپشن کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سرورز کو چلانے اور ماڈلز کی دیکھ بھال کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ٹوکنز کا نظام لایا گیا ہے تاکہ صارفین کو ایک ایسے معاشی چکر میں الجھایا جائے جہاں وہ بنیادی سروس سے کہیں زیادہ خرچ کرنے پر مجبور ہوں۔
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مستقبل کی ملازمتوں پر اس کا کیا اثر ہوگا، لیکن ایک بات یقینی ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کا آپریشنل خرچ اب انسانی مہارت کی لاگت سے تجاوز کر چکا ہے۔
ڈیٹا کی پرائیویسی اور درستگی کو برقرار رکھنے کے لیے انسانی عملہ تاحال سب سے زیادہ قابل اعتماد اور کفایت شعار آپشن بنا ہوا ہے۔