فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے فراڈ سے امریکی شہریوں کو 2.1 ارب ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل دور میں جرائم کی یہ شرح ایک تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
سوشل میڈیا: فراڈ کا نیا گڑھ
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے مالی نقصانات میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 8 گنا اضافہ ہوا ہے۔
یہ پلیٹ فارمز اب مجرموں کے لیے اپنے شکار کو ڈھونڈنے کا سب سے
آسان اور موثر ذریعہ بن چکے ہیں۔
فیس بک اور واٹس ایپ
اعداد و شمار کے مطابق مالی نقصان کی شکایت کرنے والے تقریباً 30 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ فراڈ کی شروعات سوشل میڈیا سے ہوئی۔
اس فہرست میں فیس بک پہلے نمبر پر رہا، جس کے بعد واٹس ایپ اور انسٹاگرام کا نمبر آتا ہے جہاں فراڈ کے واقعات زیادہ ہوئے۔
ای کامرس اور جعلی اشتہارات
آن لائن خریداری کے نام پر ہونے والا فراڈ سب سے عام ہے۔
40 فیصد متاثرین نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر دکھائے گئے اشتہارات سے اشیا خریدیں، جن میں ملبوسات اور گاڑیوں کے پرزے شامل تھے۔ بعد ازاں یہ تمام ویب سائٹس جعلی اور غیر محفوظ ثابت ہوئیں۔
سرمایہ کاری کے نام پر لوٹ مار
رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری کے نام پر کیا جانے والا فراڈ انتہائی خطرناک ثابت ہوا، جس سے مجموعی طور پر 1.1 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
مجرم اکثر ماہر مشیر بن کر لوگوں کو جھوٹے منافع کا لالچ دیتے ہیں اور انہیں دھوکہ دہی پر مبنی ایپس پر سرمایہ کاری کے لیے اکساتے ہیں۔
رومانوی تعلقات اور فراڈ
سوشل میڈیا پر رومانوی تعلقات استوار کر کے مالی لوٹ مار کرنا ایک اور بڑا چیلنج ہے۔
2025 میں 60 فیصد جذباتی فراڈ کے شکار افراد نے بتایا کہ ان کی ملاقاتوں کا آغاز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہوا تھا۔ مجرم پہلے اعتماد جیتتے ہیں اور پھر رقم ہتھیا لیتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر اور تحفظ
کمیشن نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات کو محدود رکھیں اور کسی نامعلوم آن لائن رابطے پر ہرگز مالی فیصلے نہ کریں۔
کسی بھی کمپنی یا پروڈکٹ کو خریدنے سے قبل اس کا نام لکھ کر آن لائن شکایات یا فراڈ کے حوالے سے ضرور تحقیق کریں۔
سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں مواصلات کو آسان بنایا ہے، وہیں یہ مجرموں کے لیے بھی ایک بڑا میدان بن چکا ہے۔
آئی ٹی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں صارفین کی آگاہی اور محتاط رویہ ہی ایسے ڈیجیٹل گھپلوں سے بچنے کا واحد اور سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔