امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد، ایرانی وزارتِ خارجہ نے دو ایرانی آئل ٹینکروں کے خلاف امریکی بحریہ کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جارحانہ اقدامات اور جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خلیجی خطے میں امریکی فوجی موجودگی عدم استحکام اور وسیع پیمانے پر نتائج کا باعث بن رہی ہے۔
مزید پڑھیں
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آج جمعہ کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ “جب بھی کوئی سفارتی حل سامنے آتا ہے، امریکہ ایک لاپرواہ فوجی مہم جوئی کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کبھی دباؤ کے آگے نہیں جھکتے۔
عراقچی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے میزائل ذخیرے اور انہیں داغنے کی صلاحیت 28 فروری کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں بلکہ درست شرح 120 فیصد ہے۔
Every time a diplomatic solution is on the table, the U.S. opts for a reckless military adventure. Is it a crude pressure tactic? Or the result of a spoiler once again duping POTUS into another quagmire?
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) May 8, 2026
Whatever the causes, outcome is the same: Iranians never bow to pressure. pic.twitter.com/ev7dMIebNB
یہ مذمت اُس جھڑپ کے بعد سامنے آئی جو گزشتہ روز امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان آبنائے ہرمز میں ہوئی، جو خلیج عرب اور خلیج عمان کو ملانے والی اہم آبی گذرگاہ ہے، جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے۔
یہ تصادم 8 اپریل 2026 سے نافذ جنگ بندی کی اب تک کی خطرناک ترین خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب توقع کی جا رہی ہے کہ تہران آج بعد میں امریکی تجویز پر اپنا جواب پیش کرے گا، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جنگ کے مکمل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ بعد کے مراحل میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق زیادہ پیچیدہ امور پر بات چیت کی جائے گی۔