اہم خبریں
8 May, 2026
--:--:--

ہرمز کشیدگی: تیزی کے بعد مارکیٹ میں پھر غیر یقینی لوٹ آئی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران کشیدگی
کشیدگی بڑھتے ہی عالمی منڈیوں میں تیل مہنگا، اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار

امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے بعد آج جمعہ کے روز عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے خلیجی خطے کے استحکام سے متعلق خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا۔ 

اس کشیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی سے متعلق امیدوں کو بھی دھندلا دیا، جو دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔

مزید پڑھیں

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.41 ڈالر یا 1.41 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 101.47 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.12 ڈالر یا 1.18 فیصد اضافے کے ساتھ 95.93 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ 

ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ اضافہ مسلسل 3 روز کی گراوٹ کے بعد سامنے آیا، کیونکہ اس ہفتے آنے والی بعض رپورٹس نے یہ توقعات پیدا کی تھیں کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جبکہ متنازع معاملات، خصوصاً ایرانی جوہری پروگرام، کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر رکھا جائے گا۔

abstract oil pumps and falling stocks on sunset ba 2026 03 26 05 30 24 utc
برینٹ خام تیل 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

تاہم، آج کے اضافے کے باوجود دونوں خام تیلوں کی قیمتیں مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 6 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہی ہیں کیونکہ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور شدید اتار چڑھاؤ برقرار ہے۔

کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے امریکا پر ایک ماہ سے جاری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جبکہ واشنگٹن نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی کارروائیاں آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

ڈالر مضبوط
امریکی اور ایشیائی
اسٹاک مارکیٹس
میں کمی

ایرانی فوج کے مطابق امریکی افواج نے ایک ایرانی آئل ٹینکر، ایک اور جہاز اور بعض شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
ادھر کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر نے ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران بیشتر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی حاصل کی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث محفوظ اثاثوں کا رخ کیا۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کو بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، معمولی اضافے کے ساتھ 98.235 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

اس طرح ڈالر نے دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح سے مسلسل دوسرے روز بحالی جاری رکھی، جو اس ہفتے امن معاہدے کی امیدوں کے باعث ریکارڈ کی گئی تھی۔

دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ 1.3555 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور مارچ کے بعد پہلی مرتبہ ہفتہ وار خسارے کی جانب بڑھنے لگا جبکہ یورو تقریباً 1.1727 ڈالر پر مستحکم رہا اور معمولی ہفتہ وار اضافے کی طرف گامزن دکھائی دیا۔

جاپانی ین بھی نسبتاً مستحکم رہا اور ابتدائی ایشیائی ٹریڈنگ میں 156.995 فی ڈالر کی سطح پر برقرار رہا، جس کی وجہ جاپانی حکام کی حالیہ مداخلتیں اور بیانات قرار دیے جا رہے ہیں۔

سونے کی قیمت
آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق امیدوں کو دھچکا

ان عسکری اور سیاسی پیش رفتوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں S&P 500 اور Nasdaq-100 کے فیوچر کنٹریکٹس میں تقریباً 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 

امریکی مارکیٹوں نے گزشتہ سیشنز میں حاصل کی گئی ریکارڈ بلند سطحوں کا کچھ حصہ کھو دیا۔

اسی طرح ایشیائی اسٹاک مارکیٹس، جو نومبر 2022 کے بعد اپنی بہترین ہفتہ وار کارکردگی کی جانب بڑھ رہی تھیں، دباؤ کا شکار ہو گئیں۔

دوسری جانب سونے کی قیمت تقریباً 4764 ڈالر فی اونس تک پہنچنے کے بعدمستحکم رہی، جبکہ سرمایہ کار خطے کی صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں کے مستقبل سے متعلق نئی پیش رفتوں کا انتظار کر رہے ہیں۔