ڈالر مضبوط
امریکی اور ایشیائی
اسٹاک مارکیٹس
میں کمی
ایرانی فوج کے مطابق امریکی افواج نے ایک ایرانی آئل ٹینکر، ایک اور جہاز اور بعض شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ جھڑپوں کے باوجود جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
ادھر کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر نے ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران بیشتر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی حاصل کی، کیونکہ سرمایہ کاروں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث محفوظ اثاثوں کا رخ کیا۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کو بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، معمولی اضافے کے ساتھ 98.235 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
اس طرح ڈالر نے دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح سے مسلسل دوسرے روز بحالی جاری رکھی، جو اس ہفتے امن معاہدے کی امیدوں کے باعث ریکارڈ کی گئی تھی۔
دوسری جانب برطانوی پاؤنڈ 1.3555 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور مارچ کے بعد پہلی مرتبہ ہفتہ وار خسارے کی جانب بڑھنے لگا جبکہ یورو تقریباً 1.1727 ڈالر پر مستحکم رہا اور معمولی ہفتہ وار اضافے کی طرف گامزن دکھائی دیا۔
جاپانی ین بھی نسبتاً مستحکم رہا اور ابتدائی ایشیائی ٹریڈنگ میں 156.995 فی ڈالر کی سطح پر برقرار رہا، جس کی وجہ جاپانی حکام کی حالیہ مداخلتیں اور بیانات قرار دیے جا رہے ہیں۔
ان عسکری اور سیاسی پیش رفتوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں S&P 500 اور Nasdaq-100 کے فیوچر کنٹریکٹس میں تقریباً 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
امریکی مارکیٹوں نے گزشتہ سیشنز میں حاصل کی گئی ریکارڈ بلند سطحوں کا کچھ حصہ کھو دیا۔
اسی طرح ایشیائی اسٹاک مارکیٹس، جو نومبر 2022 کے بعد اپنی بہترین ہفتہ وار کارکردگی کی جانب بڑھ رہی تھیں، دباؤ کا شکار ہو گئیں۔
دوسری جانب سونے کی قیمت تقریباً 4764 ڈالر فی اونس تک پہنچنے کے بعدمستحکم رہی، جبکہ سرمایہ کار خطے کی صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں کے مستقبل سے متعلق نئی پیش رفتوں کا انتظار کر رہے ہیں۔