اہم خبریں
8 May, 2026
--:--:--

کشیدگی بھی، پیشرفت کے دعوے بھی، کیا آج کچھ اچھا ہوگا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکا ایران مذاکرات
پاکستان نے طویل المدتی جنگ بندی معاہدے پر محتاط امید ظاہر کر دی

حالیہ فوجی کشیدگی اور جمعرات کی شب فائرنگ کے تبادلے کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔

ایک سفارتی ذریعے نے جمعہ کو العربیہ کو بتایا کہ امریکی تجویز پر ایران کا جواب آج جمعہ کو موصول ہونے کا امکان ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے اب بھی برقرار ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل نہایت پیچیدہ اور دشوار مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب بھی کئی بنیادی رکاوٹیں موجود ہیں، خاص طور پر ایرانی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے حوالے سے۔

مزید پڑھیں

سفارتی ذریعے نے کہا کہ ان دونوں اہم معاملات پر پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکراتی دور درکار ہوں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اس مقصد کے حصول کے امکانات پہلے سے زیادہ قریب دکھائی دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس وقت توجہ ایک عارضی مفاہمتی یادداشت پر مرکوز ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری دباؤ میں نرمی لانا ہے۔

آبنائے ملاکا میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت اور سمندری راستے کی عکاسی
ایران کا جواب آج موصول ہونے کا امکان (فوٹو: انٹرنیٹ)

ادھر باخبر حکام اور ذرائع نے جمعرات کو انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران ایک محدود اور عارضی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جو ایک مختصر فریم ورک کی صورت میں جنگی کارروائیوں کو روکنے کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ سب سے حساس اور متنازع معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔ ان کے مطابق مجوزہ منصوبہ کسی جامع امن معاہدے کے بجائے ایک مختصر مدتی مفاہمتی یادداشت پر مبنی ہے، جو دونوں فریقوں کے درمیان گہرے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکا اور ایران
عارضی اور محدود
معاہدے کے قریب
پہنچ گئے

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہے۔
پہلے مرحلے میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کے بحران کا حل تلاش کیا جائے گا، جبکہ تیسرے مرحلے میں 30 روزہ مذاکراتی مدت رکھی جائے گی تاکہ ایرانی جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاہدے پر بات چیت ہو سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس پیش رفت پر امید کا اظہار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بات چیت انتہائی مثبت رہی اور جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔

دوسری جانب پاکستان جو کئی ماہ سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، نے بھی محتاط امید ظاہر کی ہے۔ 

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ طویل المدتی جنگ بندی معاہدہ قریب دکھائی دیتا ہے۔

اس کے برعکس ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ اب بھی امریکی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے اور ابھی تک اپنا باضابطہ جواب پاکستانی حکام کے حوالے نہیں کیا گیا۔