دنیا بھر میں سیکیورٹی خدشات اور سیاسی عدم استحکام کے باعث ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
مزید پڑھیں
خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور حالیہ جنگی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک کے ممالک کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
1970 کا جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (NPT) ایٹمی ہتھیاروں کو محدود کرنے کا بنیادی ستون رہا ہے، تاہم موجودہ دنیا میں یہ اتفاق رائے کمزور پڑ رہا ہے۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یہ معاہدہ اپنے عروج پر تھا، لیکن آج بڑھتی ہوئی عالمی تقسیم نے اس کی افادیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ایٹمی دوڑ کے نئے ممکنہ کھلاڑی
مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ایٹمی صلاحیت اور ایران کے ممکنہ ایٹمی عزائم کے بعد ترکی اور سعودی عرب نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اسے ناگزیر قرار دیا ہے، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے پاس ایٹم بم ہوا تو سعودی عرب کو بھی اسے حاصل کرنا پڑے گا۔
ایشیا میں بڑھتی تشویش
مشرقِ بعید میں جاپان اور جنوبی کوریا ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لیے سب سے نمایاں امیدوار ہیں۔
چین اور شمالی کوریا کی موجودگی میں 2025 کے ایک سروے کے مطابق 76 فیصد جنوبی کورین عوام ایٹمی صلاحیت کے حصول کی حمایت کر چکے ہیں۔
اُدھر جاپان بھی اپنی ایٹمی عدم پھیلاؤ کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے اشارے دے رہا ہے۔
امریکہ پر اعتماد میں کمی
موجودہ حالات میں حلیف ممالک کا واشنگٹن پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں، خاص طور پر ایران کے خلاف کارروائی کے دوران اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لینے اور میزائل ڈیفنس سسٹم کی منتقلی نے ٹوکیو اور سیئول کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اُدھر یورپی ممالک بھی اب خود مختار ایٹمی ڈیٹرنس پر غور کر رہے ہیں۔
ایٹمی ہتھیار: امن کی ضمانت یا بقا کا ذریعہ؟
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مابین اس پر بحث جاری ہے کہ ایٹمی ہتھیار امن کی ضمانت ہو سکتے ہیں یا صرف بقا کا ذریعہ بنیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیار جنگ روک سکتے ہیں، جیسا کہ جان مرشائمر کا استدلال ہے کہ یوکرین کے پاس ایٹم بم ہوتے تو روس حملہ نہ کرتا۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی صلاحیت اکثر آمرانہ نظاموں کے استحکام کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔