اہم خبریں
8 May, 2026
--:--:--

آبنائے ملاکا: عالمی تجارت کی شہ رگ پر عسکریت پسندی کے بڑھتے سائے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ملاکا میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت اور سمندری راستے کی عکاسی
ملائیشیا کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر آبنائے ملاکا کو عبور کر رہا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

دنیا کے مصروف ترین سمندری راستے ’آبنائے ملاکا‘ سے روزانہ ہزاروں بڑے تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

بحر ہند اور بحر الکاہل کو ملانے والا یہ 900 کلومیٹر طویل راستہ عالمی معیشت کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں اب جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ آبنائے دنیا کی ایک تہائی تجارت کا مرکز ہے۔ 

ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ کے درمیان واقع یہ راستہ چین کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، کیونکہ چین اپنی توانائی کی 

80 فیصد ضروریات یعنی تیل اور گیس اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔

اعداد و شمار اور بڑھتا ہوا ٹریفک

آبنائے ملاکا کی تنگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کی کم از کم چوڑائی صرف 2.8 کلومیٹر ہے۔ ملائیشیا کی نیویگیشن اتھارٹی کے مطابق 2025 میں یہاں سے ایک لاکھ 4 ہزار سے زائد جہاز گزرے، جو 2024 کے 94 ہزار جہازوں کے مقابلے میں ایک بڑا اضافہ ہے۔

آبنائے ملاکا میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت اور سمندری راستے کی عکاسی
ایران کا جواب آج موصول ہونے کا امکان (فوٹو: انٹرنیٹ)

سکیورٹی خدشات اور عسکریت پسندی کا خطرہ

مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے ماہرین کو ’ملاکا ڈائلما‘ (Dilemma) کی یاد دلا دی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہاں کشیدگی بڑھی تو غیر ملکی فوجی مداخلت کا جواز پیدا ہو سکتا ہے، جو پورے جنوب مشرقی ایشیا کو بحران میں دھکیل دے گا۔

خطے کے ممالک اب اپنی حدود میں خود گشت کر رہے ہیں تاکہ سمندری قزاقی اور اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔ 

ان کا مقصد کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو روکنا ہے، جس کے لیے یہ ممالک باضابطہ معاہدے کے بجائے ایک عملی باہمی تعاون پر انحصار کر رہے ہیں۔

ٹول ٹیکس کا متنازع موضوع

سنگاپور اور انڈونیشیا نے سیکیورٹی اخراجات کے لیے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگانے کا اشارہ دیا ہے۔

تاہم  ملائیشیا اس کی مخالفت کر رہا ہے کیونکہ اس سے جہاز رانی کمپنیاں دوسرے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جس سے خطے کی معیشت متاثر ہوگی۔

متبادل راستوں کی مشکلات

آبنائے ملاکا کے تمام متبادل راستے یا تو بہت مہنگے ہیں یا وقت طلب۔

خطے کے ممالک اب اپنی حدود میں خود گشت کر رہے ہیں تاکہ سمندری قزاقی اور اسمگلنگ کو روکا جا سکے

تھائی لینڈ کا 90 کلومیٹر طویل ’لینڈ برج‘ یا ملائیشیا کی مشرقی ساحلی ریل لائن، کوئی بھی منصوبہ آبنائے ملاکا کی جگہ لینے کے قابل دکھائی نہیں دیتا۔
یہاں تک کہ گوادر پورٹ کا چینی راہداری منصوبہ بھی توانائی کی درآمد کے لیے مکمل متبادل نہیں ہے۔
مبصرین کے مطابق آبنائے ملاکا کا انحصار عالمی تجارت پر ہے، لیکن اس کی بقا عسکریت پسندی سے دُوری میں ہے۔
علاقائی ممالک کا اتحاد ہی وہ واحد طاقت ہے جو اسے بین الاقوامی تنازعات کا مرکز بننے سے روک سکتا ہے، بصورتِ دیگر عالمی سپلائی چین شدید خطرات کی زد میں رہے گی۔