80 فیصد ضروریات یعنی تیل اور گیس اسی راستے سے درآمد کرتا ہے۔
اعداد و شمار اور بڑھتا ہوا ٹریفک
آبنائے ملاکا کی تنگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اس کی کم از کم چوڑائی صرف 2.8 کلومیٹر ہے۔ ملائیشیا کی نیویگیشن اتھارٹی کے مطابق 2025 میں یہاں سے ایک لاکھ 4 ہزار سے زائد جہاز گزرے، جو 2024 کے 94 ہزار جہازوں کے مقابلے میں ایک بڑا اضافہ ہے۔
سکیورٹی خدشات اور عسکریت پسندی کا خطرہ
مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات نے ماہرین کو ’ملاکا ڈائلما‘ (Dilemma) کی یاد دلا دی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہاں کشیدگی بڑھی تو غیر ملکی فوجی مداخلت کا جواز پیدا ہو سکتا ہے، جو پورے جنوب مشرقی ایشیا کو بحران میں دھکیل دے گا۔
خطے کے ممالک اب اپنی حدود میں خود گشت کر رہے ہیں تاکہ سمندری قزاقی اور اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔
ان کا مقصد کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو روکنا ہے، جس کے لیے یہ ممالک باضابطہ معاہدے کے بجائے ایک عملی باہمی تعاون پر انحصار کر رہے ہیں۔
ٹول ٹیکس کا متنازع موضوع
سنگاپور اور انڈونیشیا نے سیکیورٹی اخراجات کے لیے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس لگانے کا اشارہ دیا ہے۔
تاہم ملائیشیا اس کی مخالفت کر رہا ہے کیونکہ اس سے جہاز رانی کمپنیاں دوسرے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جس سے خطے کی معیشت متاثر ہوگی۔
متبادل راستوں کی مشکلات
آبنائے ملاکا کے تمام متبادل راستے یا تو بہت مہنگے ہیں یا وقت طلب۔