مغرب کی جانب سے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو اکثر ’تزویراتی اتحاد‘ کا نام دیا جاتا ہے، تاہم یہ اصطلاح حقیقت کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں
یہ تعلق محض مفادات پر مبنی نہیں، بلکہ ایسا ’جینیاتی کوڈ‘ ہے جسے تھیوڈور ہرٹزل نے 1896 میں اپنی کتاب ’یہودی ریاست‘ میں بیان کیا تھا۔
ہرٹزل نے فلسطین میں ایک ایسے قلعے کی تجویز دی تھی جو ایشیا کے مقابلے میں یورپی تہذیب کی علامت ہو۔ یہی وجہ ہےکہ آج مغربی دارالحکومتوں کا اسرائیل کے لیے استنفار محض سیاسی نہیں، بلکہ شناخت اور بقا کا معاملہ ہے۔
مشرق کو ’سدھارنے‘ کا عزم
مغربی دنیا اسرائیل کو ایک خود مختار ملک کے بجائے اپنے نظام کے ایک حصے کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ نظریہ اس طرح کے تصور میں پوشیدہ ہے کہ اسرائیل ’جنگل میں ایک ولا ‘ (Villa) ہے۔
یہ تصور مغرب کی نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ’ولا‘ سے مراد ایک ایسا مرکز ہے جو چاروں طرف پھیلی ہوئی ’جنگلی اور غیر مہذب‘ فضا سے گھرا ہوا ہے۔
اس تناظر میں اسرائیل کی حفاظت دراصل ’تہذیب‘ کی حفاظت کے طور پر کی جا رہی ہے۔
آلہ کار کے طور پر ’ہولوکاسٹ‘ اور ’شکار‘ کا تصور
اسرائیل نے ’ہولوکاسٹ‘ کے المیے کو آڑ بنا کر ایک دائمی سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔
اس نے ’یہودی بطور مظلوم‘ اور ’اسرائیل بطور مسلح ریاست‘ کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم کر دیا ہے کہ اب اسرائیل پر کوئی بھی تنقید فوراً ’سام دشمنی‘ (Antisemitism) کے زمرے میں آ جاتی ہے۔
یہ ’مظلومیت کا اجارہ‘ اسرائیل کو احتساب سے بالاتر رکھتا ہے اور مغرب نے بھی اسی بیانیے کو اپنایا ہے کہ اسرائیل کی کوئی بھی عسکری کارروائی اسے ’دفاعِ خود‘ کا حق دیتی ہے، جبکہ فلسطینیوں کا المیہ میڈیا کی سرد اور بے حس رپورٹنگ میں گم کر دیا جاتا ہے۔
تعلیمی اور میڈیا اداروں کا کردار
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق مغربی اکیڈمی اور میڈیا ادارے بھی اسی بیانیے کو تقویت دینے میں مصروف ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ معروف اخبارات میں اسرائیلیوں کی موت کو ’مذبح‘ اور فلسطینیوں کی شہادتوں کو ’عارضی نقصان‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اسی طرح مغربی جامعات کا ردعمل بھی اسی فارمولے کا حصہ ہے، جہاں اسرائیل کے خلاف احتجاج کو ’نظم و نسق کے لیے خطرہ‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ ادارے دراصل اس ’ولا‘ کی حفاظت کے لیے کھل کر ڈھال کا کام کرتے ہیں۔
عالمی قانون کی ناکامی اور مغربی تضاد
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے بارہا ویٹو کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی دنیا کے لیے اسرائیل عالمی قوانین سے بالا تر ہے۔
جب اسرائیل کو عالمی عدالتوں میں لایا جاتا ہے تو مغرب اسے محض ایک ملک کا مقدمہ نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنی نوآبادیاتی تاریخ کا مقدمہ سمجھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی نظام، جس نے خود کو اصولوں پر مبنی قرار دیا ہے، اسرائیل کے معاملے میں مکمل طور پر مفلوج نظر آتا ہے کیونکہ یہ نظام شروع ہی سے اسرائیل کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا۔