اپالو مشنز اور
پراسرار روشنیوں سے
متعلق تصاویر نے
نئی بحث
چھیڑ دی
فائلوں میں 1972 کی Apollo 17 Moon Mission کی ایک تصویر بھی شامل ہے، جس میں 3 روشن نقطے مثلثی ترتیب میں دکھائی دیتے ہیں۔
پینٹاگون نے ساتھ جاری وضاحت میں کہا کہ اس مظہر کی نوعیت پر ابھی اتفاق نہیں تاہم ابتدائی تجزیے کے مطابق امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ کوئی مادی جسم ہو سکتا ہے۔
بعض فائلیں پرانے خلائی مشنز سے متعلق ہیں، جن میں 1969 کی Apollo 12 Mission بھی شامل ہے، جہاں خلا باز ایلن بین نے خلا میں روشنی کی چمک دیکھنے کی اطلاع دی تھی، جو بظاہر حرکت کرتی محسوس ہو رہی تھی۔
پہلی کھیپ جاری ہونے کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
ان کے مطابق پینٹاگون نے اڑن طشتریوں اور غیر شناخت شدہ فضائی مظاہر سے متعلق پہلی فائلیں عوامی جائزے اور تحقیق کے لیے جاری کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے مکمل اور اعلیٰ ترین شفافیت کے تحت خلائی حیات، زمین سے باہر مخلوقات اور پراسرار فضائی مظاہر سے متعلق حکومتی فائلوں کی نشاندہی کر کے انہیں عوام کے لیے دستیاب بنایا ہے۔
ٹرمپ نے سابق امریکی حکومتوں پر الزام لگایا کہ وہ اس معاملے میں شفافیت لانے میں ناکام رہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ’لوگ خود فیصلہ کریں: آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ لطف اٹھائیں‘۔
شفافیت کا دعویٰ
ٹرمپ انتظامیہ نے ان فائلوں کی اشاعت کو حکومتی شفافیت کی ایک بڑی مثال قرار دیا۔ پینٹاگون نے بیان میں کہا کہ امریکی عوام نے ان موضوعات پر مزید شفافیت کا مطالبہ کیا تھا، اور صدر ٹرمپ اس وعدے کو پورا کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سابق حکومتوں نے امریکی عوام کی دلچسپی کو کم کرنے یا اس موضوع کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی، جبکہ موجودہ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ شفافیت فراہم کرنا چاہتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ فائلیں خلائی مخلوق کا حتمی ثبوت نہیں
اوباما کے بیان کے بعد نیا تنازع
ٹرمپ نے فروری 2026 سے ہی اشارہ دیا تھا کہ وہ اڑن طشتریوں اور خلائی حیات سے متعلق سرکاری فائلیں جاری کرنا چاہتے ہیں۔
اس معاملے پر ان کی دلچسپی اس وقت بڑھی جب سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ خلائی مخلوقات حقیقی ہیں۔
بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ کائنات میں زندگی کے امکانات بہت زیادہ ہیں، نہ کہ انہیں وائٹ ہاؤس میں کسی خلائی مخلوق کے ثبوت ملے تھے۔
بعد ازاں ٹرمپ نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور دیگر حکام کو ہدایت دی کہ وہ خلائی حیات اور زمین سے باہر مخلوقات سے متعلق سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لیں اور انہیں امریکی عوام کے سامنے پیش کریں۔
’ڈیپ اسٹیٹ‘ کے خلاف مہم
پینٹاگون کی جانب سے یہ فائلیں جاری کرنا صرف عوامی دلچسپی کا معاملہ نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع مہم کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت وہ حساس اور پراسرار سمجھی جانے والی سرکاری فائلیں منظرِ عام پر لا رہی ہے۔
اسی سلسلے میں ٹرمپ نے 23 جنوری 2025 کو ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت Assassination of John F. Kennedy، Assassination of Robert F. Kennedy اور Assassination of Martin Luther King Jr. سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کئے گئے۔
بعد ازاں 2025 میں ان شخصیات سے متعلق مزید ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات بھی جاری کی گئیں تاہم امریکی میڈیا کے مطابق ان میں زیادہ تر معلومات پہلے سے معلوم حقائق سے مختلف نہیں تھیں۔
ماہرین کی وارننگ
دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان فائلوں کو خلائی مخلوقات کے حتمی ثبوت کے طور پر نہ دیکھا جائے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ویڈیوز اور تصاویر کی غلط تشریح ہو سکتی ہے، کیونکہ کیمرے کا زاویہ، تکنیکی معلومات کی کمی یا جدید فوجی ٹیکنالوجی سے ناواقفیت بعض اوقات پراسرار مناظر پیدا کر دیتی ہے۔
خود پینٹاگون نے بھی کہا کہ اگرچہ مواد کا سیکیورٹی جائزہ لیا گیا ہے، لیکن کئی فائلوں کا تفصیلی تجزیہ ابھی باقی ہے۔
2024 میں پینٹاگون کے ایک سرکاری دفتر کی رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت کو نہ تو کسی خلائی ٹیکنالوجی کا ثبوت ملا ہے اور نہ ہی زمین سے باہر مخلوقات کے وجود کی تصدیق ہوئی ہے۔
یوں یہ فائلیں عوام کو پہلے سے خفیہ رکھی گئی معلومات تک رسائی تو دیتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق اب بھی یہ خلائی حیات یا غیر زمینی ٹیکنالوجی کے وجود کا کوئی قطعی ثبوت فراہم نہیں کرتیں۔