آج کے دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ کیمرے اتنے چھوٹے ہو چکے ہیں کہ وہ چائے کے کپ یا کسی آئینے کے پیچھے بھی چھپ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ماہرین کے مطابق خفیہ کیمروں کو 2 اہم تکنیکی زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
- ’ایکٹیو‘ یعنی فعال آلات جو وائی فائی، بلوٹوتھ یا جی ایس ایم کے ذریعے ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔
- ’پیسِو‘ یعنی ساکن آلات جو ڈیٹا کو مقامی طور پر اسٹور کرتے ہیں اور کوئی سگنل نہیں بھیجتے۔
ہوٹلوں اور کرایے کے گھروں میں خفیہ جاسوسی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ہماری نجی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
انفراریڈ روشنی کا سراغ
بہت سے خفیہ کیمرے انفراریڈ (IR) روشنی خارج کرتے ہیں۔
اس کا سراغ لگانے کے لیے اپنے فون کا کیمرہ آن کریں اور کمرے میں گھمائیں۔ اسکرین پر اگر آپ کو کوئی چمکتی ہوئی سرخ روشنی نظر آئے تو سمجھ لیں کہ وہاں کوئی خفیہ کیمرہ نصب ہو سکتا ہے۔
وائی فائی نیٹ ورک کی اسکیننگ
کئی کیمرے براہ راست انٹرنیٹ سے جڑے ہوتے ہیں۔
فنگ (Fing) یا نیٹ ورک اسکینر جیسی ایپس استعمال کر کے آپ نیٹ ورک پر موجود مشکوک ڈیوائسز دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کو ’آئی پی کیم‘ یا غیر معروف کمپنیوں کے نام نظر آئیں تو محتاط ہو جائیں۔
لائٹ اور لینس کا طریقہ
عدسہ (لینس) روشنی منعکس کرتا ہے۔ کمرے کی بتیاں بجھائیں اور اپنے فون کی ٹارچ جلا کر ہر کونے کو غور سے دیکھیں۔ اگر آپ کو کسی جگہ سے ہلکی سی چمک یا برقی جھلک محسوس ہو تو ممکن ہے کہ وہاں کیمرے کا لینس چھپا ہوا ہو۔
مقناطیسی سینسر کا استعمال
کچھ اسمارٹ فونز میں مقناطیسی فیلڈ سینسر ہوتے ہیں جو برقی مقناطیسی لہروں کو پکڑ سکتے ہیں۔
’ہڈن کیمرہ ڈیٹیکٹر‘ جیسی ایپس ڈاؤن لوڈ کر کے فون کو مشکوک اشیا کے قریب لے جائیں۔ اگر ریڈنگ میں اچانک اضافہ ہو تو وہاں کیمرہ ہونے کا امکان موجود ہے۔
مشکوک مقامات اور احتیاطی تدابیر
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمروں کو بجلی کے مستقل ذرائع درکار ہوتے ہیں۔
اس لیے الیکٹرانک آلات، ساکٹ اور لائٹس کو سب سے پہلے چیک کریں۔ اگر آپ کو کوئی کیمرہ مل جائے تو اسے چھوئے بغیر تصویر بنائیں، پولیس کو اطلاع دیں اور فوری طور پر اس جگہ سے نکل جائیں۔
خفیہ کیمرے اب محض جاسوسی فلموں کا حصہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہیں، تاہم آپ کا اسمارٹ فون ایک مؤثر ڈھال ثابت ہو سکتا ہے، اگر آپ اسے سمجھ داری اور درست طریقے سے استعمال کریں۔
پرائیویسی کا تحفظ آپ کی آگاہی، تکنیکی مہارت اور بروقت رپورٹنگ پر منحصر ہے۔