اہم خبریں
13 May, 2026
--:--:--

کیا امریکی اسٹاک مارکیٹ جنگ کے چیلنجز کا مقابلہ کر پائے گی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی پرچم اور وال اسٹریٹ گراف کے پس منظر میں امریکی اسٹاک مارکیٹ اور جنگ کے اثرات کی عکاسی کرتی تصویر
سال کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک امریکی اسٹاک مارکیٹ نے گزشتہ 4 سالوں کی بدترین کارکردگی دکھائی (فوٹو: انٹرنیٹ)

گزشتہ سال کے اختتام پر امریکہ کے بڑے انویسٹمنٹ مینیجرز پُر امید تھے اور سرمایہ کاروں کو امریکی اسٹاکس میں سرمایہ کاری بڑھانے کا مشورہ دے رہے تھے۔

مزید پڑھیں

مبصرین کے مطابق  اس اُمید کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وال اسٹریٹ کے لیے متوقع معاونت اور نومبر 2026 میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات تھے۔

اپنے پہلے دورِ صدارت (2017-2021) کے دوران ٹرمپ نے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گہری دلچسپی لی تھی اور وہ اسے اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا براہِ راست پیمانہ قرار دیتے تھے۔ 

ٹرمپ کا ماننا تھا کہ ٹیکسوں میں کٹوتی اور ریگولیٹری پابندیوں میں نرمی جیسے فیصلوں کی وجہ سے مارکیٹ تیز ہوئی، اسی لیے وہ اکثر حصص کی قیمتوں میں اضافے کو اپنی کارکردگی کی دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے۔

سیاسی کامیابی اور مارکیٹ کی کارکردگی کے اسی گہرے ربط نے امریکی صدر کو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے معاملے میں حساس بنا دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ شرحِ سود میں کمی اور دیگر معاون پالیسیوں کے لیے مسلسل دباؤ ڈالتے رہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہے۔

امریکی پرچم اور وال اسٹریٹ گراف کے پس منظر میں امریکی اسٹاک مارکیٹ اور جنگ کے اثرات کی عکاسی کرتی تصویر
جنگیں مختصر مدت کے لیے بے یقینی اور خوف پیدا کرتی ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

توقعات اور جنگ کا بوجھ

نئے سال کے آغاز پر ماہرین کو ایک غیر معمولی تیزی کی توقع تھی، لیکن ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور جواباً ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر میزائل باری نے ان اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔

اب سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ کسی طرح عالمی معیشت کو توانائی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ کساد بازاری (Recession) سے بچایا جائے۔

سال کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک امریکی اسٹاک مارکیٹ نے گزشتہ 4 سالوں کی بدترین کارکردگی دکھائی ہے۔

26 مارچ کو ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل ’نیسڈیک’ (Nasdaq) انڈیکس جنگ سے پہلے کی اپنی بلند ترین سطح سے 10 فیصد سے زائد گر کر  کریکشن زون میں داخل ہو گیا۔ 

اگلے ہی روز معیشت کا عکاس ’ڈاؤ جونز‘ (Dow Jones) بھی اسی نقشِ قدم پر چلا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) میں بھی تقریباً 5 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔

عالمی سطح پر توانائی کی بلند قیمتیں اور معاشی بحران کی عکاسی کرتی ایک تصویر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

جنگ بمقابلہ معاشی بحران

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تمام تر تباہی اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، جس میں امریکہ براہِ راست فریق ہے، کے باوجود ماہرین مارکیٹ میں آنے والی اس حالیہ کمی کو محدود قرار دے رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ’نیسڈیک‘ اور ایس اینڈ پی 500 نے دوبارہ نئی ریکارڈ سطحوں کو چھو لیا، جس نے اس نظریے کو تقویت دی کہ جنگیں طویل مدتی نقصان کا باعث نہیں بنتیں۔

تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ جنگیں مختصر مدت کے لیے بے یقینی اور خوف تو پیدا کرتی ہیں لیکن امریکی اسٹاک مارکیٹ کو اصل اور پائیدار نقصان جنگوں نے نہیں بلکہ معاشی و مالیاتی بحرانوں نے پہنچایا ہے۔

  • پہلی عالمی جنگ (1914-1918): آغاز میں نیویارک اسٹاک ایکسچینج کو کئی ماہ کے لیے بند کرنا پڑا، لیکن جیسے ہی امریکی معیشت جنگی پیداوار کی طرف بڑھی، صنعتوں اور روزگار میں اضافہ ہوا اور مارکیٹ نے بھرپور واپسی کی۔
  • دوسری عالمی جنگ (1939-1945): پرل ہاربر جیسے حملوں کے باوجود مارکیٹ کا مجموعی رجحان مثبت رہا۔ سرکاری اخراجات اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے کمپنیوں کے منافع کو چار چاند لگا دیے اور امریکہ عالمی مالیاتی مرکز بن کر ابھرا۔
  • کوریا اور ویتنام کی جنگیں: ان جنگوں کے دوران بھی مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ عارضی ثابت ہوا۔ ماہرین کے مطابق ویتنام جنگ کے دوران بھی مارکیٹ کی کارکردگی کا تعلق جنگ سے زیادہ مہنگائی اور مانیٹری پالیسی سے تھا۔
  • خلیج جنگ اور 11 ستمبر: 1990 کی خلیج جنگ ہو یا نائن الیون کے بعد کی افغانستان و عراق جنگیں، مارکیٹ نے ابتدائی جھٹکے کے بعد تیزی سے بحالی (Recovery) کا سفر طے کیا۔
امریکی پرچم اور وال اسٹریٹ گراف کے پس منظر میں امریکی اسٹاک مارکیٹ اور جنگ کے اثرات کی عکاسی کرتی تصویر
جنگوں اور مالیاتی بحرانوں کے اثرات میں بنیادی فرق خطرے کی نوعیت کا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اصل خطرہ کہاں ہے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ 1929 کا عظیم معاشی بحران (Great Depression)، جس میں مارکیٹ اپنی 90 فیصد قدر کھو بیٹھی تھی اور 2008 کا عالمی مالیاتی بحران جنگوں سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہوئے۔

اسی طرح 2001 کا انٹرنیٹ ببل (Dot-com bubble) اور 2020 کا کورونا بحران وہ واقعات تھے جنہوں نے کھربوں ڈالرز کا سرمایہ ڈبو دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگوں اور مالیاتی بحرانوں کے اثرات میں بنیادی فرق خطرے کی نوعیت کا ہے۔ 

وہ جنگیں (خاص طور پر جو امریکی سرزمین سے باہر لڑی جائیں) اکثر سرکاری اخراجات اور صنعتی طلب میں اضافے کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو بڑھا دیتی ہیں، لیکن یہ مالیاتی نظام کی بنیادوں کو نہیں ہلاتیں۔ 

اس کے برعکس مالیاتی بحران براہِ راست بینکنگ نظام، کریڈٹ اور صارفین کے اعتماد پر حملہ کرتے ہیں، جس کے نقصانات زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں بھی سرمایہ کاروں کے لیے سبق واضح  کہ عالمی سیاسی تنازعات اور جنگوں کی سرخیاں مارکیٹ کو عارضی طور پر تو ہلا سکتی ہیں، لیکن طویل مدتی سمت کا تعین ہمیشہ معاشی بنیادیں  ہی کرتی ہیں۔